بالی ووڈ فلم انڈسٹری کی سینئر اداکارہ شبانہ اعظمی کا کہنا ہے کہ ماضی میں ایک بار شوٹنگ کے دوران سیٹ پر اس قدر توہین محسوس ہوئی کہ میں نے روتے ہوئے ننگے پاؤں گھر کا رخ کر لیا تھا۔
تفصیلات کے مطابق 70 کی دہائی سے بھارتی فلم انڈسٹری میں اداکاری کے جوہر دکھانے والی شبانہ اعظمی نے اپنے حالیہ انٹرویو کے دوران سیٹ پر ہونے والے ایک تجربے کا ذکر کیا جس کے بعد وہ فلم میں اداکاری کا خیال بھی چھوڑ دینا چاہتی تھیں۔
اسلام آباد میں 14سالہ لڑکی پر تشدد، سجل علی خاموش نہ رہ سکیں
انٹرویو کے دوران اداکارہ شبانہ اعظمی نے 1977 کی فلم ”پرورش“ کے سیٹ سے ایک واقعہ بیان کیس جس میں انہیں بغیر ریہرسل کے رقص کرنا تھا جس کے دوران کوریو گرافر نے سیٹ پر ان کی تذلیل کی۔ اس فلم کے ہدایتکار منموہن ڈیسائی تھے۔
سینئر اداکارہ شبانہ اعظمی نے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ میں رقص کرنے میں زیادہ اچھی نہیں، اس لیے نیتو کے ساتھ ڈانس نمبر کرنے سے قبل ریہرسل کرنا چاہتی تھی جبکہ کوریو گرافر کمال ماسٹر نے کہا کہ ریہرسل کی ضرورت نہیں۔ آپ کو صرف تالیاں بجانی ہیں۔
اداکارہ شبانہ اعظمی نے کہا کہ جب میں سیٹ پر پہنچی تو پتہ چلا کہ ڈانس نمبر کرنا ہے جبکہ سامنے نیتو سنگھ، تو اس سے قبل کہ میں سمجھ پاتی کہ مجھے دایاں پاؤں حرکت میں لانا ہے یا بایاں، نیتو ریہرسل کرکے رقص سے فارغ بھی ہوجاتی تھی۔ اس لیے پریشانی ہوئی۔
شبانہ اعظمی کا کہنا تھا کہ میں کافی گھبرا گئی تھی کیونکہ رقص کافی پیچیدہ تھا جسے تبدیل کرنے کیلئے میں نے کوریوگرافر سے کہا لیکن ان کے ردِ عمل نے مجھے پریشان کردیا۔ بہت سے جونیئر اداکار بھی وہیں تھے اور انہوں نے کہا کہ لائٹس آف کردیں یعنی سین ختم ہوگیا۔
کمال ڈانس ماسٹر (کوریوگرافر) نے کہا کہ اب شبانہ جی ہمیں رقص کے اسٹیپس بتائیں گی۔ شبانہ اعظمی نے کہا کہ میرے لیے یہ اتنی بڑی توہین تھی کہ میں سیٹ سے بھاگ کھڑی ہوئی اور اپنی کار ڈھونڈنے لگی۔ میں روتے ہوئے کسی بھی فلم میں کام نہ کرنے کا عہد کررہی تھی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








