معروف اداکارہ شگفتہ اعجاز نے نئے اور پرانے اداکاروں کے مابین فرق واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرانے فنکاروں میں تحمل اور برداشت کے علاوہ مزاج اور کام کی پختگی زیادہ تھی جو آج کل کے فنکاروں میں کم ہے۔
تفصیلات کے مطابق واسع چوہدری کے شو ”گپ شپ“ کے دوران ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے اداکارہ شگفتہ اعجاز نے کہا کہ پرانے دور کے فنکاروں میں تحمل اور برداشت پائی جاتی تھی، اب چونکہ حالات پہلے کے مقابلے میں بہت بہتر ہیں، اس لیے نئے فنکاروں میں برداشت بھی کم ہوگئی۔
شو کے دوران گفتگو کرتے ہوئے اداکارہ شگفتہ اعجاز نے کہا کہ موجودہ دور کے فنکاروں کو جو کچھ مل گیا ہے وہ ہمیں حاصل کرنے میں دسیوں سال لگے۔ اس لیے مزاج کا فرق تو آجاتا ہے۔ پہلے دور کے فنکاروں کی اوّلین ترجیح کام ہوتا تھا، جبکہ موجودہ دور کے فنکار اداکاری کو اتنی اہمیت نہیں دیتے۔
میزبان واسع چوہدری نے کہا کہ آپ کیا سمجھتی ہیں کہ آج کل اداکاری اور ڈراموں کی شوٹنگ کے دوران سوشل میڈیا کے استعمال سمیت فنکاروں کے دھیان کو بھٹکانے والی چیزیں زیادہ ہیں؟ اداکارہ شگفتہ اعجاز نے کہا کہ اداکاروں کے علاوہ ہدایت کاروں اور ڈرامہ سازوں میں بھی یہ بات آچکی ہے۔
اداکارہ شگفتہ اعجاز نے کہا کہ پہلے دور میں کام خالص ہوتا تھا، اداکاروں کو اپنے ڈائیلاگز کے مابین موسیقی کی ضرورت پیش نہیں آتی تھی۔ ڈراموں کا اسکرپٹ بہت جاندار ہوتا تھا۔ لوگ ڈراموں کو دیکھ کر سیکھتے اور سمجھتے تھے۔ آج کل ہمارے ڈراموں میں پڑوسی ملکوں کے رنگ بھی شامل ہوگئے ہیں۔
شگفتہ اعجاز نے کہا کہ میں چاہتی ہوں کہ ہمارا وہی وقت اور وہی ڈرامہ واپس آجائے۔ اگر آج ایسے ڈرامے کو خام حالت میں بھی دکھایا جائے تو عوام کی ڈرامے میں اتنی ہی دلچسپی ہوگی۔ آج کل ہمارے نوجوان بھی پاکستانی ڈرامے کی جانب رجحان رکھتے ہیں، اس لیے بہت سے لوگ اس ڈرامے کو پسند کریں گے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








