بھارتی قوم کا سر شرم سے جھکا دینے والا ہولناک کیس منظر عام پر آگیا، جس کی نامناسب ویڈیوز وائرل ہیں، 13سالہ لڑکی کو 64افراد نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنادیا۔
تفصیلات کے مطابق بھارتی ریاست کیرالہ سے تعلق رکھنے والی ایتھلیٹ لڑکی نے جنسی زیادتی کا شرمناک انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ اسے گزشتہ 5سال میں کم از کم 64 مرتبہ زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور گھر والے نہیں جانتے تھے کہ اسے کن حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
حال ہی میں ایک کونسلنگ سیشن کے دوران، جب ایک این جی او اپنے معمول کے وزٹ پر لرکی کے گھر پہنچی تو لڑکی نے 5سال کی خوفناک صورتحال بیان کی۔ چائلڈ ویلفیئر کمیٹی نے تھانے جا کر مقدمات درج کرادئیے۔ لڑکی نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ اسے 13سال کی عمر میں پہلی بار زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔
بیان کے مطابق ماضی میں 13سال کی عمر میں اس کے پڑوسی نے اس کے ساتھ فحش مواد شیئر کیا جبکہ اب اس کی عمر 18سال ہوچکی ہے، جسے اس سے قبل اسکول میں کھیلوں کے تربیتی سیشن کے دوران بھی جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ اس کی کچھ ویڈیوز سوشل میڈیا پر موجود ہیں۔
ایک وکیل این راجیو کا کہنا ہے کہ لڑکی باصلاحیت ایتھلیت ہے جو بہت سے کھیل کے کیمپس میں شرکت کرچکی ہے۔ جنسی زیادتی کی شکایت پر 10 سے زائد افراد گرفتار ہوچکے جبکہ پولیس لڑکی کا تفصیلی بیان ریکارڈ کرنے کیلئے تیار ہے۔ یہ ایک سنگین معاملہ ہے، لڑکی کو 8ویں کلاس میں زیر تعلیم رہنے کے دوران بھی بدسلوکی کا نشانہ بنایا گیا۔
کمسن لڑکی کو دلت ہونے کے باعث بھی مختلف زیادتیاں سہنی پڑیں۔ واضح رہے کہ اکیسویں صدی میں بھی بھارت میں ذات پات کی متعصبانہ تقسیم پر مبنی نظام رائج ہے جس میں متعصب عوام دلت ذات کے ہندوؤں اور مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتی افراد کے ساتھ برابری کا سلوک کرنے سے گریز کرتے ہیں اور انہیں خود سے کمتر اور ناپاک بھی سمجھتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








