کراچی : سندھ ہائیکورٹ میں غیر ملکیوں کو ڈیپ سی میں مچھلیوں کے شکار کے لیے لائسنس جاری کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران عدالت نے 23 دسمبر کو وزارت میری ٹائمز اور دیگر سے تفصیلی جواب طلب کرلیا۔
عدالت نے غیر ملکیوں کو لائسنس جاری کرنے پر حکم امتناع کی زبانی استدعا مسترد کردی، دوران سماعت جسٹس محمد علی مظہرنے ریمارکس دیئے کہ یہ پالیسی میٹر ہے ،عدالت ضرورت سے زیادہ مداخلت نہیں کرسکتی۔عدالت کا کہنا ہے کہ فریقین کی جانب سے تحریری جواب آنے کے بعد جائزہ لیا جائے گا۔
درخواست گزار کا کہنا تھا کہ فشنگ پالیسی بنانے کے لئے جج پر مشتمل کمیشن تشکیل دیا جائے، غیر ملکی ویسلز کو مچھلی کے شکار کی اجازات نہ دی جائے۔
کمشنر فشر مین میری ٹائمز نے لائسنس کے اجراء کی پالیسی سے متعلق عدالت کا آگاہ کردیا ، انہوں نے بتایا کہ حکومت پاکستان نے یونائٹیڈ نیشن کے ساتھ مل کر مچھلیوں کی افزائش سے متعلق سروے کیا تھا۔
سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ پاکستان میں مچھلی کا بے دردی سے شکار کیا جارہا ہے،اگر صورتحال ایسی رہی تو تو فشریز کا سیکٹر تباہ ہوجائے گا،سروے میں مچھلی کے شکار کا درست طریقہ بھی بتایا گیا ہے۔
کمشنر فشر مین میری ٹائمز نے اپنے جواب میں کہا کہ فشنگ بوٹس کی زیادہ تعداد میں رجسٹریشن،ڈیپ سی ٹالرز کا استعمال کیا جارہا ہے، ملک میں غیر تربیت یافتہ ماہی گیروں کی وجہ سے آبی حیات کے ذخائر میں کمی ہورہی۔
سندھ حکومت کا آبی حیات کو بہتر بنانے کے انتظام میں اہم کردار ہے ،تمام کشتیوں میں کچھوے کی شناخت کی ڈیوائس لگانا ضروری ہے،کیکڑے کی ایکسپورٹ پر امریکہ نے پابندی لگا رہی ہے، پاکستان میں فش ہاربر کا ماحول بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ فش ہاربر کی خراب صورتحال کی وجہ سے یورپ مچھلی کی خریداری پر پابندی لگا رکھا ہے، مچھلی کے بے دریغ شکار پر پابندی اور کشتیوں کی تعداد کم کی جائے، فش ہاربر سوسائٹی کورنگی میں لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال بہتر بنائی جائے۔
کمشنر فشر مین میری ٹائمز کا کہنا تھا کہ کشتیوں پر ویسل مانٹیرنگ سسٹم نصب کئے جائیں، سندھ اور وفاقی حکومت کو مل کر فش ہاربر سمیت ماہی گیروں کی حالت اور انتظام بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔