مدین واقعہ: مبینہ گستاخ کے متعلق چونکا دینے والے حقائق

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو اوپ انڈیا

سوات کے علاقے مدین میں ہجوم کی جانب سے قرآن پاک کی بے حرمتی کے الزام میں قتل کیے گئے شخص کے متعلق نئی تفصیلات سامنے آگئیں، مبینہ گستاخ کے خاندان نے مقتول اور اس کے مبینہ فعل سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔

 رپورٹ کے مطابق مقتول اسماعیل سیالکوٹ شہر کا رہائشی تھا۔ اس کی عمر 40 سال کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے اور پولیس کے مطابق وہ 18 جون سے مدین میں ایک ہوٹل میں اکیلا رہ رہا تھا۔

سوات کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ڈاکٹر زاہد اللہ نے نجی چینل آج نیوز کو بتایا کہ اسماعیل کی والدہ نے پولیس کو ایک ویڈیو بیان جاری کیا جس میں انہوں نے اپنے بیٹے سے لا تعلقی کا اطہار کیا، مقتول کی والدہ کا کہنا تھا کہ ملزم کی زندگی کا ایک بڑا حصہ ملائیشیا میں گزرا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے والد کا انتقال 30 سال پہلے ہو گیا تھا، وہ ملائیشیا میں تھا۔ جب واپس آیا تو ہم نے اس کی شادی کر دی۔ وہ ہمارے ساتھ لڑتا رہا اور پھر ڈیڑھ سال پہلے چلا گیا۔

سوات پولیس کے پاس جولائی 2022 میں سیالکوٹ سٹی تھانے میں درج کی گئی ایف آئی آر کی کاپی بھی ہے۔ ماں کی طرف سے درج ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس کے بیٹے نے اپنے بھائی اور ماں پر آہنی راڈ اور پستول کے بٹ سے حملہ کیا۔ 2022 کی ایف آئی آر میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ملزم منشیات کا عادی تھا اور خاندان کے افراد کو دھمکیاں دیتا تھا۔

خاندان نے پولیس کو ایک اخباری تراشہ بھی فراہم کیا جس میں ایک عاق نامے کا اشتہار موجود ہے۔ اس اشتہار میں ماں نے اس سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ ویڈیو میں وہ یہ کہتے ہوئے سنائی دے رہی ہیں کہ ہم اہلسنت ہیں۔ ہم مسلمان ہیں۔ ہم کوئی غلط کام نہیں کرتے۔ ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ اس نے کیا کیا یا نہیں کیا، اس کا ہمارے ساتھ رشتہ ختم ہو گیا۔ پولیس کے مطابق ملزم نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی۔

Related Posts