سن 2019ء پاکستان کے لئے انتہائی اہم سال رہا جس کے دوران پاکستان نے بہت سی مشکلات دیکھیں اور ان کا مقابلہ بھی کیا، اس کے علاوہ اہم واقعات میں اچھے واقعات کا بھی اضافہ ہوا۔

2019 کے آغاز میں ہی ایک دردناک واقعہ دیکھنے میں آیا، پنجاب کے شہر ساہیوال میں پولیس (سی ٹی ڈی) کی جانب سے کیے گئے مبینہ پولیس مقابلے میں 2 خواتین سمیت 4 افراد جاں بحق ہو گئے جس کے بعد اس واقعے میں ملوث 5 پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

اس کے بعد پاکستان نے اپنی فضائی سرحدوں کی خلاف ورزی پر انڈیا کا طیارہ مار گرایا ،جس کے پائلٹ ابھی نندن کو پاکستانی فوج نے کشمیر کے علاقے سے حراست میں لے لیا تاہم حکومت نے خیر سگالی جذبات کے تحت اسے بھارت واپس بھیجا۔

اسی طرح سینئر و مرکزی پی ٹی آئی رہنما اسد عمر نے ٹوئٹ کے ذریعے وزیر خزانہ کا عہدہ چھوڑنے کا اعلان کیا ، ان کا استعفیٰ منظور کرکے حفیظ شیخ کومشیر خزانہ تعینات کیا گیا جو اب بھی اس عہدے پر کام کررہے ہیں۔

مئی میں مسیحی خاتون آسیہ بی بی سپریم کورٹ کی طرف سے توہینِ رسالت مقدمے میں اپنی بریت کے بعد کینیڈا روانہ ہو ئی۔
جولائی میں عالمی عدالتِ انصاف میں جاسوس کلبھوشن یادیو کیس میں بھارت کو شکست ہوئی، بین الاقوامی ججز کے پینل نے پاکستان کے مؤقف کو درست قرار دے دیا۔

اگست میں بھارت نے آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کردیا جس کے بعد مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہو گئی تھی، اس کے بعدسے آج تک کشمیر میں تاریخِ انسانی کا بد ترین کرفیو نافد ہے ۔

بات کرتے ہیں کراچی کی ، جہاں اگست میں بارشوں کے دوران 15 سے زائدافراد جاں بحق ہوئے ، ان بارشوں کے نتیجے میں کورنگی ندی میں نچلی سطح کا سیلاب آیا جس سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

ستمبر میں گھوٹکی میں نویں جماعت کے طالبعلم کا دعویٰ تھا کہ نوتن مل نامی استاد کمرۂ جماعت میں سبق پڑھاتے ہوئے مبینہ طور پر توہین رسالت کے مرتکب ہوئے جس سے باعث شہر میں فسادات پھو ٹ پڑے تاہم پولیس نے ہندو استاد کو گرفتار کر کے توہینِ رسالت کی دفعہ 295 سی کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔

دوسری جانب برطانوی شاہی جوڑے شہزادہ ولیم اور کیٹ مڈلٹن کی آمد سے پاکستانیوں کے چہرے کھل اٹھے، انہوں نے پاکستان کے تاریخی مقامات کا دورہ کیا۔برطانوی شاہی جوڑے نے مختلف مواقع پر اپنے بیانات سے عوام کے دل جیت لیے۔

2019 میں ٹک ٹاک اسٹار حریم شاہ نے بھی خوب توجہ حاصل کی وہ دفتر خارجہ پہنچی اور ا ن کی ویڈیو سے ایک تنازعہ نے جنم لیااور ابھی تک ان کی خبریں میڈیا میں گردش کررہی ہیں۔

اسی طرح رحیم یار خان میں ٹرین حادثے میں 70سے زائد افراد کی ہلاکت نے ہر آنکھ کو اشکبار کیا وہیں اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمان کے دھرنے نے حکومت کو مشکلات میں بھی ڈالا۔

نومبر میں وزیرِ اعظم عمران خان نے کرتار پور راہداری کا باقاعدہ افتتاح کیا جس کے بعد بھارت سے اب سکھوں کی آزادانہ گوردوارہ دربار صاحب آمد جاری ہے۔

اسی طرح نومبر میں ایک اور اچھی خبر سامنے آئی، امریکی میگزین سی این ٹریولر نے پاکستان کو سال 2020 میں سیاحت کے حوالے سے نمبر ون مقام قرار دے دیا جس پر صدرِ مملکت، وزیر اعظم عمران خان اور دیگر کی جانب سے ستائشی بیانات سامنے آئے۔

سال 2019 میں عدلیہ کی جانب سے بھی انتہائی اہم فیصلے دیکھنے میں آئے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد وسابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کو طبی بنیادوں پر علاج کیلئے بیرون ملک روانگی کی اجازت دے دی گئی۔
دوسری جانب سابق صدرپرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں جسٹس وقار احمد سیٹھ کی سربراہی میں خصوصی عدالت کے 3 ججز پر مشتمل بینچ نے سزائے موت کا حکم سنایا، جس پر آئی ایس پی آر سمیت قومی رہنماؤں کا سخت ردِ عمل آیا۔
اس سے قبل موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر بھی تناؤ دیکھنے میں آیا تاہم سپریم کورٹ کی جانب سے حکومت کو آرمی چیف توسیع کیلئے 6 ماہ کی مہلت دیکر معاملے کو خوش اسلوبی سے نمٹادیا گیا ۔
لاہور میں پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی نامی ہسپتال پر وکلا ء کے حملے نے پاکستان کی تاریخ کے پنوں پرسیاسی پھیری۔وکلاء حملے کے دوران ڈاکٹرز کے ساتھ ساتھ عوام کوبھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ چند مریض بھی زندگی کی بازی ہار گئے۔

گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں












