کیا سن آف سردار 2 دیکھنی چاہیے؟ فلم پر طنز کے تیر برسنے لگے

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ نیوز بائیٹ)

بالی ووڈ کے مشہور اداکار اجے دیوگن کی نئی فلم سن آف سردار 2 حال ہی میں ریلیز ہوئی ہے، جو 14 سال پرانی پہلی فلم سن آف سردار کا سیکوئل ہے اور جسے اب تک مداح یاد کرتے ہیں۔

سن آف سردار 2 کی کہانی جسی نامی لڑکے کے گرد گھومتی ہے جو لندن میں ایک پاکستانی خاندان سے ملتا ہے۔ اس خاندان کی ایک لڑکی ایک گینگسٹر خاندان کے لڑکے سے محبت کر بیٹھی ہے۔ شادی کو ممکن بنانے کے لیے ایک منصوبہ بنایا جاتا ہے جس میں جسی لڑکی کے جعلی والد کا کردار ادا کرتا ہے اور گینگسٹر خاندان سے ملاقات کے لیے لے جایا جاتا ہے جس کے بعد وہ سنگین مسائل میں پھنس جاتا ہے۔

فلم میں کرداروں کی پیش کش مایوس کن ہے خاص طور پر دیپاک ڈوبریال کا کردار جو بطور ٹرانس جینڈر دکھایا گیا ہے مگر انتہائی غیر حساس اور ناقابل قبول انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ ایک منظر میں یہ دکھایا گیا کہ مردوں کو دیکھ کر اس کے اندر نسوانی پہلو ابھرتے ہیں اور خواتین کو دیکھ کر مردانہ پہلو جو نہ صرف غیر ضروری بلکہ غیر مہذب ہے۔

دوسری طرف، مرحوم بھارتی اداکار مکول دیو نے ٹونی کا کردار دوبارہ نبھایا ہے لیکن ان کی صحت کی خرابی فلم میں واضح نظر آتی ہے جس سے لگتا ہے کہ وہ اس فلم کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں تھے تاہم پروڈیوسرز نے سن آف سردار کی یادگار قائم رکھنے کے لیے انہیں شامل کیا جو ایک غیر مناسب فیصلہ ثابت ہوا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ سن آف سردار 2 کی کہانی میں تسلسل اور گہرائی کی کمی ہے۔ فلم دیکھتے ہوئے ناظرین کو سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ پردے پر کیا ہو رہا ہے۔ مکالمے اور مناظر ایک دوسرے سے مربوط نہیں اور منطقی تسلسل سے عاری ہیں۔ کلائمکس میں جذبات اور مزاح کو ملانے کی کوشش کی گئی ہے، مگر وہ ناکام رہی ہے۔

اس کے علاوہ، فلم میں حد سے زیادہ ڈبل میننگ اور نامناسب بات چیت کا استعمال کیا گیا ہے جو تفریح کے بجائے ناظرین کو ناگوار گزرتا ہے۔ پہلی فلم کی طرح سادہ اور دلکش مزاح کی کمی فلم کو خاصا کمزور کر دیتی ہے۔

تو سوال یہ ہے کہ کیا یہ فلم دیکھنی چاہیے؟ جواب ہے اگر آپ ڈبل میننگ مذاق پر دل کھول کر ہنس سکتے ہیں تو یہ فلم آپ کے لیے ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر آپ ایسے مکالموں خصوصاً ٹرانس جینڈر کمیونٹی کو تکلیف پہنچانے والے جملوں سے ناراض ہوتے ہیں، تو یہ فلم آپ کے لیے نہیں ہے۔

سن آف سردار 2 ایک ایسا تجربہ ہے جو مداحوں کے لیے مایوسی اور بحث کی گنجائش چھوڑتا ہے، جہاں پہلی فلم کی مقبولیت اور معیار برقرار نہیں رکھا جا سکا۔

Related Posts