اسلام آباد :شہر اقتدار میں میں واقع لال مسجد اور جامعہ حفصہ کا ایک بار پھر محاصرہ کر لیا گیا ہے ،پولیس کی بھاری نفری موجود ہے جس میں لیڈیز پولیس ،قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار وں کی بھی بہت بڑی تعداد موجود ہے ۔
جامعہ حفصہ اور لال مسجد کے خطیب و امام مولانا محمد عبدالعزیز غازی نے بتایا کہ حکومت مولانا عبدالغفار کی بہت حمایت کرتی ہے جبکہ ہمیشہ ہمارے خلاف کارروائی کی جاتی ہے ۔
میرے والد مرحوم نے جامعہ فریدیہ کی بنیاد رکھی پھر مدرسہ مکمل ہوا اور جن دنوں میں جیل میں تھا تو میں نے ہی مولانا عبدالغفار کو نائب مہتمم جامعہ فریدیہ مقرر کیا تھاآج یہی مولانا عبدالغفار باغی ہو چکے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ میں نے ان کو کہا کہ مناظرہ کے لئے کسی بھی میڈیا پلیٹ فارم پر آ جائیں لیکن انہوں نے ہٹ دھرمی اپنائی ہوئی ہے ،ہمارے استاد اور نہایت عزیز قریبی ساتھی مولانا محمد ادریس کو دو دن پہلے اٹھالیا گیا جو کہ جامعہ فریدیہ کا تعمیراتی کام کروا رہے تھے لیکن جب میں نے اور ام حسان نے احتجاج کیا تو ہمیں بتایا گیا کہ مولانا محمد ادریس کو سی ٹی ڈی لاہور نے اٹھایا ہے ۔
مولانا محمد عبدالعزیز غازی نے بتایا کہ ان پر 2011 میں مقدمہ درج کیا گیا تھا اگر ان پر مقدمہ تھا تو ہمیں بتاتے ہم خود ان کو پیش کر دیتے مگر ایسا نہیں ہوا جبکہ جامعہ فریدیہ میں اس وقت نوے نکات کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔
مولانا عبدالغفار نے تقریباً 13 سال میں 12 کروڑ روپے کی امداد حاصل کی ہے لیکن ایک بھی کمرہ طلباء کے لئے نہ بنایا اوربار بار عرض کرنے کے باوجود مدرسے کی شاخیں نہ بنائیں ان پر توجہ نہ دی۔
مزید پڑھیں:ترکی کی قدیم عمارت آیا صوفیہ مسجد میں تبدیل
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








