سکندر کا مقدر: امید افزا آغاز لیکن کیا نیرج پانڈے توقعات پوری کرسکیں گے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

اپنے منفرد انداز کے لیے مشہور نیرج پانڈے کوپرانے طرز کا خاص شوق ہے، خاص طور پر پتلی موچھوں کا۔ یہ صرف ایک انداز نہیں بلکہ کلاسیکی مردانگی کی علامت ہے، جو ہمیں پرانے بالی ووڈ ہیروز کی یاد دلاتی ہے۔

انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق نیرج پانڈے کی فلمیں طرز اور سسپنس سے بھرپور ہوتی ہیں، تقریباً بھارتی سینما کے سنہری دور کی ایک یادگار کی طرح۔ ہر فلم ایسا محسوس ہوتی ہے جیسے وہ اس پرانی جادوئی کی تلاش میں ہو، جہاں ہر چھوٹی حرکت اور آواز ماضی سے جڑی ہوئی ہوتی ہے۔

نیرج پانڈے کی فلمیں اکثر حیرت انگیز موڑوں سے بھری ہوتی ہیں، جو آپ کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہیں۔ اس لئے ان کی نئی فلم “سکندر کا مقدر” کے حوالے سے ان سے بڑی توقعات وابستہ تھیں۔

انہوں نے جمی شرگل اور ایوناش تیواری جیسے اداکاروں کے ساتھ مل کر کام کیا، جو ایک شاندار تجربے کا وعدہ کر رہے تھے۔ فلم ایک طاقتور آغاز کے ساتھ شروع ہوتی ہے، جس میں کچھ دلچسپ مناظر اور ایک سنسنی خیز ڈکیتی شامل ہے، جو کلاسیکی احساسات کا مظہر ہے، جس کی وجہ سے مداحوں کو ایک عظیم مہم جوئی کی امید تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ “سکندر کا مقدر” ممکنہ توقعات کے مطابق نہیں چل پائی۔ بہترین آغاز کے باوجود جیسے جیسے کہانی آگے بڑھتی ہے، اس کی دلکشی کم ہوتی جاتی ہے۔ کہانی کے موڑ پیش گوئی کے قابل ہیں اور رومانوی ذیلی کہانی بے جگہ لگتی ہے، جس سے مرکزی کہانی کی طاقت کمزور ہو جاتی ہے۔

یہاں تک کہ جمی شیرگل کی اداکاری بھی تھکی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ کرداروں کے درمیان بلّی اور چوہے کے کھیل کا عنصر بھی درست انداز میں نہیں پہنچتا، اور فلم کا اختتام کچھ بورنگ محسوس ہوتا ہے۔

یہ فلم اس بات کی کھوج کرتی ہے کہ کس طرح خودی اور جنون تباہی کا سبب بن سکتے ہیں، جہاں شکار کرنے والے اور شکار ہونے والے کے درمیان کی لائن وقت کے ساتھ دھندلی ہو جاتی ہے۔

Related Posts