کراچی:سندھ کے وزیر برائے زراعت محمد اسماعیل راہو نے باردانہ کی خریداری سے متعلق کہا ہے کہ اب تک سندھ میں ایک لاکھ 20ہزار ٹن گندم کی خریداری بھی کی جاچکی ہے۔
اسماعیل راہو کی جانب سے کمشنرز، ڈی ایف سیز کو کاشتکاروں کو باردانہ فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ کاشتکاروں کو وقت پر باردانہ فراہم نہ کرنے والے افسران کے خلاف کارروائی ہوگی۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ باردانہ فراہم کرنے کے لیے چھوٹے کاشتکاروں کی پہلی ترجیح کو یقینی بنایا جائے۔
ضلع بدین کے 12 مراکز پر باردانہ فراہمی اور گندم کی خریداری جاری ہے، بدین میں 2 لاکھ 60 ہزار بوری کاشتکاروں کو فراہم کی گئی ہے۔وزیر زراعت اسماعیل راہونے کہاکہ سندھ کے تمام اضلاع میں 7 لاکھ 57 ہزار 950 ٹن باردانہ فراہم کیا جا چکاہے۔
گزشتہ ماہ سندھ حکومت نے درآمدی گندم کے 70فیصد غیر معیاری ہونے کا دعویٰ کیاتھا،اس ضمن میں سندھ کے وزیر زراعت اسماعیل راہونے کہاتھاکہ مقامی قیمت سے کہیں گنا زائد قیمت پر درآمدی گندم کھانے کے قابل نہیں ہے۔
اپنے بیان میں صوبائی وزیر زراعت نے کہاکہ بیرون ملک سے منگوائی گئی گندم انتہائی غیر معیاری ہے، امپورٹڈ گندم میں70فیصد پاکستانی گندم ملا کر کھانے کے قابل بنایا جاتا ہے۔