وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے بعد وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے عوام کیلئے بڑے ریلیف پیکج کا اعلان کر دیا۔
انہوں نے ٹرانسپورٹرز کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد پورے صوبے میں کرایوں کو منجمد کروا لیا، ساتھ ہی بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں کے اثرات کو کم کرنے کیلیے ایک ہدفی سبسڈی پروگرام بھی متعارف کرایا۔
وزیر اعلیٰ ہاؤس میں اعلیٰ سطحی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جہاں صوبائی وزراء، ٹرانسپورٹرز کے نمائندے اور اعلیٰ سرکاری افسران موجود تھے، وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت نے ایک جامع حکمتِ عملی تیار کی ہے تاکہ شہریوں، خاص طور پر کم آمدنی والے مسافروں کو، عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باعث بڑھتے ہوئے سفری اخراجات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
سندھ بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں کا برقرار رکھنے سے متعلق مراد علی شاہ نے کہا کہ متعدد مشاورت کے بعد بین الاضلاعی اور شہری روٹس پر چلنے والے ٹرانسپورٹرز اس بات پر متفق ہوگئے ہیں کہ وہ کرایوں میں اضافہ نہیں کریں گے اور 28 فروری 2026 کی سطح پر ہی برقرار رکھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ میں ٹرانسپورٹرز کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے قومی مفاد میں حکومت کی ریلیف کوششوں کا ساتھ دیا، بڑھتے ہوئے آپریشنل اخراجات کے باوجود ٹرانسپورٹرز نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوام کو ریلیف دینے پر رضامندی ظاہر کی۔
ٹرانسپورٹرز کے نمائندوں، جن میں کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد کے رہنما حاجی تواب اور بین الاضلاعی آپریٹر شبر ملک شامل تھے، نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ کرایے برقرار رکھنا مشکل معاشی حالات میں شہریوں کی مدد کیلیے ایک اجتماعی فیصلہ ہے۔
نقصانات کے ازالے کیلئے سبسڈی دینے کے حوالے سے وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ حکومت روٹ پرمٹس کی بنیاد پر ٹرانسپورٹرز کو مالی معاونت فراہم کرے گی تاکہ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث ہونے والے اخراجات کا ازالہ کیا جا سکے اور سروسز کا تسلسل برقرار رہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ سبسڈی میں وفاقی حکومت کی معاونت کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومت کی اضافی مدد بھی شامل ہوگی تاکہ ٹرانسپورٹرز بغیر مسافروں پر بوجھ ڈالے اپنی خدمات جاری رکھ سکیں، حکومت سبسڈی کا بوجھ خود اٹھائے گی تاکہ پورے صوبے میں کرایے مستحکم رہیں۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ میں 11 ہزار سے زائد بسیں چل رہی ہیں اور کرایوں کو سبسڈی کے ذریعے برقرار رکھنے پر صوبائی حکومت کو تقریباً 3 سے 4 ارب روپے خرچ کرنا پڑیں گے، عوام کو اہم شعبوں کیلیے ریلیف فراہم کر رہے ہیں۔
’یہ سبسڈی پیکج درج ذیل شعبوں تک بھی توسیع دی جائے گی، مال بردار گاڑیاں تاکہ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مستحکم رہیں۔ اسکول وینز، تاکہ طلبہ کی ٹرانسپورٹ فیس میں اضافہ نہ ہو۔ پبلک ٹرانسپورٹ آپریٹرز تاکہ ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں کے باوجود روزمرہ آپریشن جاری رہ سکے۔ اگرچہ ابتدا میں حکومت نے عوامی بسوں کو مفت کرنے پر غور کیا تھا لیکن بعد میں ایک وسیع تر کرایہ منجمد پالیسی کو ترجیح دی گئی تاکہ زیادہ لوگوں کو فائدہ پہنچے۔‘
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








