سندھ اسمبلی نے ہفتے کے روز وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی جانب سے پیش کردہ قرارداد کو کثرت رائے سے منظور کر لیا، جس میں صوبے کی تقسیم یا کراچی کو علیحدہ صوبہ بنانے کی کسی بھی کوشش کو غیر آئینی اور جمہوری اقدار کے منافی قرار دیا گیا۔
ایم کیو ایم پاکستان نے اس کی مخالفت کی، لیکن تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے اراکین نے بھی حمایت کی۔
قرارداد میں واضح کیا گیا ہے کہ کراچی سندھ کا اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصہ ہے اور رہے گا، اور ایسی کوئی بھی کوشش قومی یکجہتی اور وفاقی ڈھانچے کے لیے خطرہ تصور کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جو اس قرارداد کی مخالفت کرے گا اسے سندھ مخالف سمجھا جائے گا۔
انہوں نے سندھ کی تاریخی، ثقافتی اور تہذیبی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سندھ محض ایک انتظامی اکائی نہیں بلکہ دنیا کی قدیم ترین زندہ تہذیبوں میں سے ایک ہے، جہاں موہن جو دڑو، وادی سندھ تہذیب، شاہ عبداللطیف بھٹائی، سچل سرمست، عبداللہ شاہ غازی اور لعل شہباز قلندر کی دھرتی شامل ہے۔
وزیر اعلیٰ نے اس قرارداد کو پاکستان سے محبت اور سندھ کی تاریخی شناخت کے تحفظ کے لیے انتہائی اہم قرار دیا اور کہا کہ یہ قرارداد کسی شخص یا جماعت کے خلاف نہیں بلکہ سندھ اور پاکستان کے مستقبل کی ضمانت ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








