مزدوروں کے بچوں کو خواندہ بنانے کیلئے غیر سرکاری تنظیموں کے تعاون کی ضرورت ہے،سعید غنی

تازہ ترین

تازہ ترین

All resources should be used to improve the quality of colleges, Saeed Ghani

کراچی:صوبائی وزیر اطلاعات و محنت سعید غنی نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کو تعلیم کے شعبے میں میں کام کرنے والی مستند غیر سرکاری تنظیموں کے تعاون کی ضرورت ہے تاکہ صوبے میں موجود تمام مزدوروں کے بچوں کو خواندہ بنایا جا سکے۔

سعید غنی نے کہا ہے کہ حکومت سندھ سوشل سکیورٹی کے نظام کو صوبے بھر میں عام کرنا چاہ رہی ہے جس کے تحت تمام مزدوروں کے بچوں کو تعلیم کی فراہمی لازمی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہوگا جس کے لیے صوبائی حکومت کو گرین کریسنٹ ٹرسٹ جیسی تعلیم کے شعبے میں کام کرنے والی مستند غیر سرکاری تنظیموں کا بھرپور تعاون چاہئےہوگا۔

مزدوروں کے بچوں کو تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے حکومت تمام وسائل اور سرمایہ فراہم کرے گی اور غیر سرکاری تنظیموں کو حکومت کے ساتھ مل کر اس مشن کو مکمل کرنا ہوگا۔ سعید غنی نے کہا کہ سندھ حکومت کو غیر سرکاری تنظیموں کے ساتھ اشتراک عمل کرکے اس انداز میں کام کرنے میں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

انہوں نےکہا کہ پرائیویٹ سیکٹر سے جو لوگ اپنا وقت، سرمایہ، اور وسائل نکال کر تعلیم کے شعبے میں کام کرتے ہیں وہ درحقیقت ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں میں سے ایک ذمہ داری نبھا رہے ہوتے ہیں۔ حکومت وقت کا فرض ہے کہ ان کی بھرپور مدد کی جائے۔

مزید پڑھیں:سازشی بینظیر کا نام مٹانے اور ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں، بلاول بھٹو زرداری

اس حوالے سے گرین کریسنٹ ٹرسٹ کو سندھ میں خواندگی کے مشن کو بڑھانے میں جس قسم کے تعاون کی ضرورت ہوگی حکومت سندھ اس سے بڑھ چڑھ کر مدد فراہم کرے گی۔

انہوں نے گرین کریسنٹ ٹرسٹ کے تعلیم کے شعبے میں خدمات کو سراہا اور کہا کہ حکومت کو ایسی غیر سرکاری تنظیموں کے کام کی ہر وقت ضرورت رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو تعلیم کی فراہمی یقینی بنائے بغیر کوئی بھی ملک ترقی نہیں کرسکتا اور اس حوالے سے جتنی بھی کوششیں کی جائے کم ہیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گرین کریسنٹ ٹرسٹ کے سی ای او زاہد سعید نے موجودہ حکومت پر زور دیا کہ کہ ملک میں ناخواندہ بچوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ان جیسے دوسرے مسائل سے نمٹنے کے لیے تعلیمی امرجنسی کا نفاذ عمل میں لایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ 18ویں آئینی ترمیم کے نفاذ کے بعد تعلیم کا شعبہ دہ وفاق سے صوبوں کو منتقل ہوگیا ہے مگر وفاقی حکومت ملک میں موجود تعلیمی مسائل کو حل کرنے کی ذمہ داری سے خود کو عہدہ برا نہیں کرسکتی۔

انہوں نے کہا کہ صرف صوبہ سندھ میں ناخواندہ بچوں کی تعداد 4.2 ملین ہے اور اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے تعلیمی نظام کی بہتری اور دستیاب وسائل کا شفاف استعمال ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ جی سی ٹی نے اپنے تعلیمی سفر کا آغاز 25 سال پہلے کراچی کے ضلع غربی کے دور دراز کے ایک علاقے میں اپنا پہلا سکول قائم کرکے کیا۔ اس سکول میں 50 طالب علم اور ایک استاد تھا۔ آج جی سی ٹی کے نیٹ ورک میں طالب علموں کی تعداد 29 ہزار ہے جن کو چودہ سو قابل اساتذہ تعلیم دے رہے ہیں۔

جی سی ٹی ان علاقوں میں اسکولوں کا قیام عمل میں لے کر آئ جہاں پر پہلے کوئی پرائیویٹ یا سرکاری سکول موجود نہ تھا۔انہوں نے کہا کہ جی سی ٹی اگلے پانچ سالوں میں اپنے سکولوں میں طالب علموں کی تعداد ایک لاکھ لے جانا چاہتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بے نظیر بھٹو شہید یوتھ ڈویلپمنٹ پروگرام میں کروڑوں روپے کی خوردبرد،2 افسران گرفتار

انہوں نے کہا کہ جی سی ٹی کو حاصل ہونے والے عطیات کو کو غیر مراعات یافتہ گھرانوں سے تعلق رکھنے والے بچوں کی معیاری تعلیم پر براہ راست خرچ کیا جاتا ہے اور ان عطیات سے سکولوں کی عمارتیں نہیں تعمیر کی جاتیں کیونکہ اسکولوں کو کرائے پر حاصل شدہ عمارتوں میں قائم کیا جاتا ہے۔

انہوں نے ارادہ ظاہر کیا کہ سندھ میں تعلیمی نظام کے حوالے سے کام کرنے والے غیر سرکاری تنظیموں کی مشترکہ کنسوشیم کا قیام عمل میں لایا جائے تاکہ صوبے کی تعلیمی پسماندگی کو مشترکہ کاوشوں سے دور کیا جاسکے۔

تقریب سے سے کمشنر کراچی  افتخار شلوانی، وائس ایڈمرل ریٹائرڈ ورلڈ عارف اللہ حسینی آرٹس کونسل کراچی کے صدر محمد احمد شاہ نے بھی خطاب کیا اور گرین کریسنٹ ٹرسٹ کی 25 سالہ تعلیمی خدمات کو سراہا۔

Related Posts