سندھ ہائی کورٹ نے ای چالان کے خلاف فوری حکم امتناع کی درخواست مسترد کردی

تازہ ترین

تازہ ترین

Sindh High Court rejects petition for immediate stay against e-challan
ONLINE

کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے جماعت اسلامی، مرکزی مسلم لیگ، راشد رضوی ایڈووکیٹ اور دیگر کی جانب سے ای چالان کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کی۔

درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی کہ ای چالان پر فوری حکم امتناع جاری کیا جائے تاہم عدالت نے اس زبانی استدعا کو مسترد کر دیا۔

جسٹس عدنان اقبال چوہدری نے کہا کہ ہم فوری طور پر حکم امتناع جاری نہیں کرسکتے، فریقین کے جوابات آنے کے بعد کیس کی سماعت کر کے فیصلہ کیا جائے گا۔

درخواست گزار راشد رضوی ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ کراچی کے ساتھ امتیازی سلوک ہورہا ہے اور سب سے زیادہ چالان کراچی سے وصول کیے جا رہے ہیں۔

جسٹس عدنان اقبال چوہدری نے کہا کہ کراچی کے حالات دیگر شہروں سے مختلف ہیں، اس لیے موازنہ درست نہیں ہوگا۔

عدالت نے ٹریفک پولیس، محکمہ داخلہ اور دیگر متعلقہ فریقین کو جواب جمع کرانے کی مہلت دی اور درخواست گزاروں کو درخواست کی نقول فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ سماعت 11 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی۔

درخواست میں چیف سیکریٹری سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی ٹریفک کے ساتھ ساتھ ڈائریکٹر جنرل ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اور ڈائریکٹر جنرل نادرا کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں کہا گیا کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر عائد کیے گئے جرمانے انتہائی زیادہ اور غیر منصفانہ ہیں۔ ملک کے دیگر حصوں خصوصاً لاہور میں جس خلاف ورزی پر جرمانہ 200 روپے ہے، کراچی میں وہی خلاف ورزی 5 ہزار روپے میں جرمانہ بنتی ہے۔

سندھ حکومت نے جولائی 2025 سے ملازمین کی کم سے کم تنخواہ 40 ہزار روپے مقرر کی ہے، جو گروسری، یوٹیلیٹی بلز، بچوں کی تعلیم اور دیگر ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے۔

درخواست میں مزید کہا گیا کہ ٹریفک قوانین کی یہ نام نہاد اصلاحات صوبے کے دیگر بڑے شہروں میں نافذ نہیں کی گئیں، جس کی وجہ سے کراچی کے مزدور کی آمدنی پر جرمانے کی شرح دیگر شہروں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔

درخواست گزار عدالت سے استدعا کر رہے ہیں کہ عائد کیے گئے جرمانوں کے عمل کو فوری طور معطل کیا جائے اور فریقین کو ہدایت دی جائے کہ وہ عدالت کو جرمانوں کی منصفانہ حیثیت کے بارے میں مطمئن کریں۔

Related Posts