انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کے سندھ کے رکن احسان لغاری نے خبردار کیا ہے کہ صوبہ سندھ کو آنے والے دنوں میں 8 لاکھ کیوسک تک کے سیلابی ریلے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
انہوں نے اپنی تفصیلی تجزیاتی رپورٹ میں کہا کہ دریائے چناب اور راوی کے بلند ترین ریلے یکم اور 2 ستمبر کو پنجند کے مقام پر بیک وقت یا چند گھنٹوں کے وقفے سے پہنچیں گے جن کا بہاؤ 6 لاکھ 50 ہزار سے 7 لاکھ کیوسک تک ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ دریائے ستلج کا سیلابی ریلا گنڈا سوالہ سے نکل کر تین ستمبر کو پنجند پہنچے گا، جس کے بعد یہ پانی 4 ستمبر تک گڈو بیراج کی سمت بڑھتے ہوئے تقریباً 5 لاکھ سے 5 لاکھ 50 ہزار کیوسک کی مقدار میں وہاں پہنچے گا۔
احسان لغاری کے مطابق گڈو بیراج کو پانی دو سمتوں سے ملتا ہے، ایک تونسہ کے ڈاؤن اسٹریم سے اور دوسرا پنجند کے ڈاؤن اسٹریم سے۔ اگر سلیمان رینج میں مزید بارشیں ہوئیں تو پہاڑی ندی نالوں کا پانی بھی گڈو میں شامل ہو سکتا ہے۔
انہوں نے موجودہ صورتحال بتاتے ہوئے کہا کہ 28 اگست کو تونسہ کے ڈاؤن اسٹریم پر پانی کا بہاؤ تقریباً ڈھائی لاکھ کیوسک ہے جبکہ گڈو پر یہ بہاؤ 3 لاکھ 30 ہزار کیوسک سے زائد ہے۔
آنے والے دنوں میں دریائے سندھ کا اپنا بہاؤ بھی 3 لاکھ سے 3 لاکھ 50 ہزار کیوسک کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب 4 ستمبر کو پنجند سے آنے والا ریلا شامل ہوگا تو گڈو پر کل پانی کا بہاؤ تقریباً 7 لاکھ 50 ہزار کیوسک تک پہنچ جائے گا۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ چونکہ دریائے چناب کا بہاؤ مرالہ کے مقام پر پہلے ہی کم ہو رہا ہے اس لیے یہ بلند ترین ریلا صرف ایک یا دو دن برقرار رہ سکتا ہے۔
احسان لغاری نے زور دیا کہ سندھ کو کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے پہلے سے تیار رہنا ہوگا۔
ان کے مطابق چاہے پانی کا بہاؤ 6 لاکھ ہو یا 7 لاکھ کیوسک، صوبے کو 8 لاکھ کیوسک کی شدت کے مطابق حفاظتی اقدامات لازمی کرنے چاہئیں تاکہ جانی و مالی نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








