سندھ حکومت نے میڈیکل اور ڈینٹل کالج داخلہ ٹیسٹ (ایم ڈی کیٹ) کے دوران نقل اور پرچہ لیک ہونے کے واقعات کو روکنے کے لیے ایف آئی اے سے مدد کی درخواست کی ہے۔
امتحان کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے حکومت نے صحت کے محکمے اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) سے بھی تعاون کی اپیل کی ہے۔
سندھ حکومت نے ایف آئی اے سے درخواست کی ہے کہ وہ امتحان کے دن صوبے بھر میں امتحانی مراکز کا جائزہ لینے کے لیے گریڈ 18 کے سات افسران تعینات کرے۔ اس اقدام کا مقصد ٹیسٹ کے دوران کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کو روکنا ہے، جس میں بڑی تعداد میں طلبہ کی شرکت متوقع ہے۔
ایم ڈی کیٹ کا انعقاد سندھ کے پانچ ڈویژنز کے چھ شہروں میں ہوگا، جس میں کل 38683 طلبہ شرکت کریں گے۔ یہ قدم گزشتہ امتحانات کے دوران پرچہ لیک ہونے اور ناقص انتظامات کے الزامات کے بعد اٹھایا گیا ہے۔
22 ستمبر 2024 کو ہونے والے گزشتہ ایم ڈی کیٹ میں سندھ کے پانچ شہروں میں 38000 سے زائد طلبہ نے شرکت کی۔ یہ امتحان ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (ڈی یو ایچ ایس) نے منعقد کیا، جو گزشتہ تین سال سے اس ٹیسٹ کا انعقاد کر رہی ہے۔ صوبے کی سرکاری جامعات میں ایم بی بی ایس کے لیے 1,945 نشستیں مختص کی گئیں، جن میں 1691 اوپن میرٹ اور 254 سیلف فنانس کے لیے مخصوص تھیں۔
امتحان کے فوراً بعد ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (وائی ڈی اے) نے ڈی یو ایچ ایس پر الزام لگایا کہ ایم ڈی کیٹ کا پرچہ امتحان کے آغاز سے قبل لیک ہو چکا تھا۔ ان الزامات کے جواب میں کئی طلبہ نے ڈی یو ایچ ایس کے باہر احتجاج کیا اور سندھ کے وزیر اعلیٰ سے اس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
امتحان کے قریب آتے ہوئے سندھ حکومت کی ایف آئی اے کے ساتھ یہ شراکت داری ایم ڈی کیٹ کے عمل کی شفافیت اور غیرجانبداری کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








