ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ کا بجٹ منظور؛ خواتین کیلئے الیکٹرک بائیکس اور مزدوروں کیلئے سولرائزڈ گھر

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ ایکسپریس)

ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ نے رواں مالی سال کے بجٹ کی منظوری دے دی ہے جو محنت کشوں کیلئے خوشخبری لے کر آیا ہے۔ اس بجٹ میں محنت کشوں کی فلاح و بہبود کے لیے کئی اہم فیصلے کیے گئے ہیں جن میں 7 لاکھ روپے کی حادثاتی ہیلتھ انشورنس، 270 اسپتالوں میں مفت علاج اور خواتین ورکرز کے لیے مفت الیکٹرک بائیکس کی فراہمی شامل ہیں۔

وزیر محنت و افرادی قوت اور چیئرمین ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ شاہد تھہیم کی زیر صدارت بورڈ کا 33 واں اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکریٹری محنت رفیق قریشی، کمشنر سندھ ریونیو بورڈ، آجر و اجیر کے نمائندوں، فنانس ڈیپارٹمنٹ کے حکام اور دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ سیکریٹری رفیق قریشی نے گزشتہ بجٹ کے اہداف کی تکمیل کی تفصیلات پیش کیں، جن میں 10 ہزار صنعتی خواتین ورکرز کے لیے ای-بائیکس کی فراہمی، لیبر کالونیوں کی بحالی، اور سلائی مشینوں کی تقسیم شامل ہیں۔

نئے بجٹ میں محنت کشوں کے لیے ایکسیڈنٹل ہیلتھ انشورنس اسکیم متعارف کروائی گئی ہے، جس کے تحت ہر ورکر کو سالانہ 7 لاکھ روپے تک کی انشورنس ملے گی۔ اس سے ملک بھر کے 270 اسپتالوں میں مفت علاج ممکن ہوگا۔ مزید برآں، وزیر اعلیٰ سندھ کی ہدایت پر ڈیتھ گرانٹ کی رقم 7 سے بڑھا کر 10 لاکھ روپے اور شادی گرانٹ 3 سے بڑھا کر 5 لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔

اس بجٹ میں طلبہ و طالبات کے لیے الیکٹرک بائیکس اور خواتین کیلئے پنک اسکوٹیز کی فراہمی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ورکرز کیلئے فلیٹس کی بجائے مکمل سولرائزڈ گھر تعمیر کیے جائیں گے۔ ہاؤس لون اور کار لون ایک بار جبکہ بائیک لون دو بار حاصل کیا جا سکے گا بشرطیکہ یہ سہولت پہلے استعمال نہ کی گئی ہو۔

بورڈ نے فیصلہ کیا کہ تمام سہولیات کو ڈیجیٹلائز کیا جائے گا۔ مزدوروں اور ان کے اہل خانہ کا ڈیٹا نادرا اور ای او بی آئی سے منسلک ہوگا۔ ورکرز ویلفیئر بورڈ 3 ارب روپے شریعہ کمپلائنٹ سکوک بانڈز میں سرمایہ کاری کرے گا۔ اس کے علاوہ، ملازمین کی صحت کی سہولیات کے اخراجات کے لیے معیاری نظام بنایا جائے گا تاکہ اخراجات کو شفاف بنایا جا سکے۔

بجٹ میں اسکولوں کی سولرائزیشن اور ڈیجیٹلائزیشن کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ طلبہ کو سال میں دو بار یونیفارم دی جائے گی اور تمام تعلیمی اداروں کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کیا جائے گا۔

کمشنر سندھ ریونیو بورڈ نے انکشاف کیا کہ گزشتہ 53 برسوں میں ایف بی آر نے مزدوروں کے فنڈز کی مد میں 350 ارب روپے جمع کیے لیکن سندھ کو صرف 22.5 ارب روپے ملے۔ اس غیر منصفانہ تقسیم پر وزیر اعلیٰ سندھ نے وزیر اعظم کو خط لکھ کر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

Related Posts