راولپنڈی کے 200 رہائشی علاقوں میں چھوٹی صنعتیں قائم، عوام کی زندگی اجیرن

تازہ ترین

تازہ ترین

راولپنڈی کے 200 رہائشی علاقوں میں چھوٹی صنعتیں قائم، عوام کی زندگی اجیرن
راولپنڈی کے 200 رہائشی علاقوں میں چھوٹی صنعتیں قائم، عوام کی زندگی اجیرن

راولپنڈی کے 200  رہائشی علاقوں میں چھوٹی صنعتیں، ورکشاپس اور کمرشل گودام قائم ہیں جن کے باعث شہریوں کی زندگی اجیرن ہو کر رہ گئی۔

تفصیلات کے مطابق راولپنڈی شہر اور کینٹ میں 200 سے زائد رہائشی علاقوں میں قائم چھوٹی صنعتیں، ورکشاپ، کمرشل گودام، بے ہنگم تعمیرات اور تجاوزات نے شہر کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا جبکہ ٹاؤن پلاننگ کے فقدان کے باعث لاکھوں شہریوں کا جینا محال ہوگیا۔

گلیوں محلوں میں عام طور پر شور شرابہ رہتا ہے جبکہ رات بھر ٹرکوں اور کنٹینرز سے بھاری سازو سامان اتارے جانے کے باعث عوام کا دن کا چین اور رات کا سکون برباد ہو کر رہ گیا۔ راولپنڈی کی شہری حکومت اور کینٹ انتظامہ سمیت کوئی بھی ادارہ ایکشن لینے کو تیار نہیں۔

گوالمنڈی ویسٹریج، ڈھوک چوہدریاں، ڈھوک سیداں، بھابڑا بازار، اکال گڑھ، ہزارہ کالونی، صادق آباد، سٹیلائٹ ٹاؤن، ڈھیری، حسن آباد، جھنڈا چیچی سمیت راولپنڈی کے  200 سے زائد علاقوں میں چھوٹی صنعتیں، گودام اور ورکشاپس قائم ہیں جن کے باعث لاکھوں شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

اکال گڑھ کے رہائشی محمد ندیم کے مطابق رہائشی آبادی کے ہر دوسرے گھر میں گودام موجود ہیں جن میں گاڑیوں کے پرانے اسپیئر پارٹس اور دیگر کاٹھ کباڑ رکھا جاتا ہے۔ گوداموں میں سارا دن ہیوی مشینری کا استعمال کیا جاتا ہے جس سے شور شرابہ اور گندگی کا ڈھیر پیدا ہوتا ہے۔

محمد ندیم کے مطابق راولپنڈی کے شہر صدیوں پرانی آبادیوں میں اپنے قیمتی گھر اونے پونے داموں فروخت کرکے دور دراز علاقوں میں ہجرت پر مجبور ہو گئے ہیں۔ گوال منڈی کے مکینوں کے مطابق گھر میں زہریلی گیس سے مصنونعات کی تیاری کے باعث فضائی آلودگی بڑھ رہی ہے۔ دیگر علاقوں کے مکین بھی اسی طرح کے مسائل کا شکار ہیں۔

  یہ بھی پڑھیں:  مدت ختم، اسلم آفریدی  قیمتی اشیاء ساتھ لے کر چلتے بنے

Related Posts