اسمگلروں کی نیند اڑ گئی! کروڑوں روپے کی غیر قانونی سگریٹ برآمد، کسٹمز کی کارروائی نے سب کو ہلا دیا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ ایف بی آر)

پاکستان کسٹمز انفورسمنٹ کلیکٹوریٹ ملتان نے رواں ماہ نومبر میں اسمگلنگ کے خلاف بھرپور کارروائیاں کرتے ہوئے بڑی مقدار میں ممنوعہ سگریٹ ضبط کر لیں جن کی مالیت 2 کروڑ 11 لاکھ 30 ہزار روپے بنتی ہے۔

سرکاری حکام کے مطابق مختلف اضلاع اور شاہراہوں پر ہونے والی ان کارروائیوں میں مجموعی طور پر 10 ہزار 701 آؤٹر پیکس ضبط کیے گئے، جن میں غیر ملکی برانڈز کے سگریٹ شامل تھے۔ ان سگریٹوں کی مالیت مارکیٹ کے حساب سے تقریباً 2 کروڑ 11 لاکھ 30 ہزار روپے کے قریب بنتی ہے جو اسمگلرز کے لیے ایک بڑا مالی نقصان تصور کی جا رہی ہے۔

Image

پاکستان کسٹمز حکام کا کہنا ہے کہ اسمگل شدہ مصنوعات کی روک تھام نہ صرف قومی خزانے کو نقصان سے بچاتی ہے بلکہ مقامی صنعت کے تحفظ کے لیے بھی ناگزیر ہے۔

Image

ایف بی آر کے مطابق یہ کارروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ادارہ تمباکو کی غیر قانونی تجارت کے خلاف اپنی زیرو ٹالرینس پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہے۔

Image

ایف بی آر نے پاکستان کسٹمز کی ٹیموں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان اہلکاروں نے پیشہ ورانہ مہارت، مستعدی اور قانون کے نفاذ کے لیے غیر معمولی عزم کا مظاہرہ کیا جس کے باعث یہ بڑی کامیابیاں ممکن ہو سکیں۔

ادارے نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ اسمگلنگ کے خلاف کارروائیاں آئندہ بھی اسی شدت کے ساتھ جاری رہیں گی تاکہ عوامی محصولات کا تحفظ ہو اور غیر قانونی کاروبار کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں غیر قانونی سگریٹس کی فروخت مارکیٹ کا 56–58 فیصد حصہ گھیرنے کے باعث تمباکو کی صنعت بحران کا شکار ہے۔ ہر غیر قانونی سگریٹ سے تقریباً 9 روپے کا ٹیکس نقصان ہوتا ہے جس سے حکومت کو سالانہ تقریباً 400 ارب روپے کا نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ قانونی کمپنیوں کا مارکیٹ شیئر کم ہو کر 42 فیصد رہ گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے موثر نفاذ میں ناکامی اور سرحدی کنٹرولز کی کمزوری اس مسئلے کو بڑھا رہی ہیں۔ حل کے لیے حکومت کو ٹیکس اسٹیمپ قوانین سخت کرنے، اسمگلنگ پر سزائیں بڑھانے اور خوردہ فروشوں کو قانونی مصنوعات کی شناخت کی تربیت دینے کی ضرورت ہے۔

Related Posts