برطانیہ میں پانچ سے سات سال کی عمر کے بچوں میں موبائل اور سوشل میڈیا کا استعمال پریشان کن مسئلے کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
ایک رپورٹ میں یہ ہوشربا انکشاف ہوا ہے کہ برطانیہ میں پانچ سے سات سال کی عمر کے ایک تہائی بچے بغیر نگرانی کے سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں اور ان میں سے ایک چوتھائی کے پاس اسمارٹ فونز ہیں۔
عرب اخبار القدس العربی نے برطانوی میڈیا کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ 42 فیصد والدین نے کہا کہ وہ اپنے چھوٹے بچوں کے ساتھ سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں، جبکہ 32 فیصد نے کہا کہ بچے آزادانہ طور پر ایسا کرتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ان والدین کی تعداد میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے جو اپنے بچوں کو انٹرنیٹ کے استعمال کے لیے مقرر کردہ کم از کم عمر تک پہنچنے سے پہلے سوشل نیٹ ورکس پر اکاؤنٹس بنانے کی اجازت دیتے ہیں۔
یہ رجحان اس قدر بڑھ گیا ہے کہ قوانین کے باوجود والدین اپنے بچوں کو مقررہ عمر سے پہلے انٹرنیٹ استعمال کرنے سے نہیں روک پاتے۔
رپورٹ کے مطابق بچوں میں موبائل فون اور سوشل سائٹس کے بڑھتے استعمال کے پیش نظر برطانیہ میں بچوں کی نئی ٹیکنالوجی تک رسائی کو منظم کرنے کے بارے میں بحث جاری ہے، 5-7 سال کی عمر کے بچوں میں سوشل نیٹ ورکنگ کے استعمال میں عام طور پر گزشتہ سال سے اضافہ ہوا ہے۔
5 سے 7 سال کی عمر کے تقریباً ایک چوتھائی بچوں کے پاس اسمارٹ فون ہیں، جبکہ ان میں سے 76 فیصد ٹیبلٹ استعمال کرتے ہیں۔
انٹرنیٹ استعمال کرنے والے اس عمر کے بچوں کے تین چوتھائی والدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ان سے آن لائن حفاظت کے بارے میں بات کی ہے۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 8 سے 17 سال کی عمر کے ایک تہائی بچوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے گزشتہ 12 مہینوں میں پریشان کن یا نقصان دہ مواد دیکھا ہے لیکن صرف 20 فیصد والدین کا کہنا ہے کہ ان کے بچوں نے انہیں بتایا ہے کہ انہوں نے آن لائن پریشان کن یا غلط مواد دیکھا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ زیادہ تر بچے والدین سے اپنے معاملات چھپاتے ہیں۔
انٹرنیٹ استعمال کرنے والے 8 سے 17 سال کی عمر کے دس میں سے نو بچوں نے کہا کہ انہوں نے آن لائن حفاظت کے بارے میں اسکول میں کم از کم ایک سبق پڑھا ہے اور ان میں سے تین چوتھائی کا خیال تھا کہ یہ ان کے لیے مفید تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








