سہیل آفریدی کے الزامات جھوٹے ثابت! جانیں وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کو 10 سال میں کتنے پیسے ادا کیے

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

وفاقی حکومت نے واضح کیا ہے کہ خیبر پختونخوا کو نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت اس کا مکمل حصہ باقاعدگی سے فراہم کیا جا رہا ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے مختص اضافی رقوم بھی بلا تاخیر دی جاتی ہیں۔ وزارت خزانہ کے مطابق صوبے کو ہر پندرہ دن بعد این ایف سی کے تحت فنڈز منتقل کیے جاتے ہیں اور اس مد میں کوئی بقایا جات موجود نہیں ہیں۔

وزارتِ خزانہ کے حکام کے مطابق وفاقی حکومت خیبر پختونخوا کو نہ صرف این ایف سی ایوارڈ کے تحت بلکہ اس سے ہٹ کر بھی شفاف اور بروقت مالی وسائل فراہم کرنے کے عزم پر قائم ہے تاکہ صوبے کی ترقی، مالی استحکام اور تنازعات کے بعد کی بحالی کے عمل میں مدد فراہم کی جا سکے۔

بیان کے مطابق ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبے کا حصہ قابلِ تقسیم محاصل میں سے 14.62 فیصد مقرر کیا گیا تھا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران اضافی ایک فیصد حصہ بھی صوبے کے لیے مخصوص کیا گیا۔

اگرچہ ساتواں این ایف سی ایوارڈ پانچ سال کے لیے نافذ ہوا تھا تاہم آٹھویں نویں اور دسویں ایوارڈ پر اتفاق نہ ہونے کے سبب اسی فریم ورک کے تحت خیبر پختونخوا کو اب بھی مکمل اور اضافی حصہ فراہم کیا جا رہا ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق حالیہ ادائیگی 17 دسمبر 2025 کو کی گئی جس میں 46.44 ارب روپے صوبے کو منتقل کیے گئے جو وفاقی حکومت کی بروقت ادائیگی کی عزم کا ثبوت ہے۔ جولائی 2010 سے نومبر 2025 کے دوران این ایف سی کے تحت مجموعی طور پر 5,867 ارب روپے صوبے کو منتقل کیے گئے جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی مد میں 705 ارب روپے فراہم کیے گئے۔

حکام کے مطابق تیل و گیس رائلٹی، گیس ڈویلپمنٹ سرچارج اور قدرتی گیس پر ایکسائز ڈیوٹی سمیت دیگر مدات میں 482.78 ارب روپے جولائی 2010 سے نومبر 2025 تک براہِ راست صوبے کو منتقل کیے گئے۔

وزارت خزانہ نے بتایا کہ سابق فاٹا کے خیبر پختونخوا میں ضم ہونے کے بعد نئے اضلاع کے اخراجات وفاقی حکومت نے این ایف سی حصے سے پورے کیے جس کے تحت 2019 سے اب تک 704 ارب روپے فراہم کیے جا چکے ہیں۔ علاوہ ازیں، بے گھر افراد کی مدد کے لیے 117.166 ارب روپے اور وفاقی پی ایس ڈی پی کے تحت گزشتہ پندرہ برس میں 115 ارب روپے مختص کیے گئے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت مالی سال 2016 سے 2025 کے دوران خیبر پختونخوا میں 481.433 ارب روپے کی نقد معاونت فراہم کی گئی۔ وزارت خزانہ نے اس موقع پر وفاقی حکومت کی اس پالیسی کو دہرایا کہ وہ صوبے کے لیے منصفانہ وسائل کی تقسیم اور مالی وفاقیت کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے اور سابق فاٹا کے حصے سے متعلق 11ویں این ایف سی ایوارڈ کے امور باہمی مشاورت سے حل کیے جائیں گے۔

یاد رہے کہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا تھا کہ وفاقی حکومت این ایف سی ایوارڈ کے تحت وعدہ شدہ فنڈز مالی سال 2025-26 میں تاحال ریلیز نہیں کیے گئے جس کے باعث قبائلی اضلاع میں ترقیاتی سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔

Related Posts