صوفی گلوکارہ سونھ لغاری سیلاب کے باعث فلڈ ریلیف کیمپ میں زندگی گزارنے پر مجبور

تازہ ترین

تازہ ترین

صوفی گلوکارہ سونھ لغاری سیلاب کے باعث فلڈ ریلیف کیمپ میں زندگی گزارنے پر مجبور
صوفی گلوکارہ سونھ لغاری سیلاب کے باعث فلڈ ریلیف کیمپ میں زندگی گزارنے پر مجبور

کراچی: پاکستان میں حالیہ تباہ کن سیلاب سے 1500 سے زائد افراد جاں بحق اور لاکھوں بے گھر ہو گئے۔ صوفی گلوکار سونھ لغاری بھی ان میں سے ایک ہیں جنہوں نے تباہ کن سیلاب میں اپنا گھر کھو دیا اور ملیر میں سندھ حکومت کے قائم کردہ ٹینٹ سٹی میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئیں۔

صوفی گلوکارہ سونھ لغاری نے سندھی، پنجابی، مارواڑی سمیت مختلف زبانوں میں گانے گائے اور مزاحیہ ڈراموں میں اداکاری بھی کی لیکن ایک زمانے کی مشہور شخصیت اب ایک بے بس انسان کی تصویر پیش کر رہی ہیں۔

ایم ایم ڈیجیٹل سے بات کرتے ہوئے، سونھ لغاری نے کہا کہ شدید بارش نے ان کے گھر کو تباہ کردیا، ان کے شوہر نے سیلاب زدہ علاقے سے ریلیف کیمپ تک جانے میں ان کی مدد کی۔ انہوں نے شکایت کی کہ سندھ حکومت کے بلند و بانگ دعوے صرف دعوے ہی رہ گئے ہیں اور انہیں یہاں صرف خیمے دیے گئے ہیں لیکن سیلاب زدگان کے لیے کوئی اور بنیادی سہولیات نہیں ہیں۔

گلوکارہ کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے انہیں گرم زمین پر بچھانے کے لئے بھی کچھ فراہم نہیں کیا اور انہیں ہر گزرتے دن دھول کے طوفان اور گرمی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے کیونکہ ان کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹینٹ سٹی میں سیلاب متاثرین کے لیے سانپ اور بچھو بھی مسائل ہیں۔ سونھ لغاری یہ بتاتے ہوئے رو پڑیں کہ ان کا بیٹا پوچھتا رہتا ہے: ”ماں ہم اپنے گھر کب جا رہے ہیں۔”، انہوں نے کہا، یہ زندگی نہیں، مر جاتے تو بہتر ہوتا۔

یہ حقیقت ہے کہ اپنا گھر بار چھوڑ کر کیمپوں میں خانہ بدوشوں کی طرح رہنا آسان نہیں لیکن سندھ حکومت کو چاہیے کہ وہ سیلاب زدگان پر توجہ دے اور صرف بڑے بڑے دعوے کرنے کے بجائے انہیں کم از کم کیمپوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائے۔

Related Posts