بھارتی ریاست جھارکھنڈ میں ہسپانوی سیاح کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد ایک بار پھر سوالات اٹھنا شروع ہوگئے ہیں کہ کیا بھارت میں خواتین محفوظ ہیں۔
ہسپانوی سیاح جس کی شناخت حکام نے ظاہر نہیں کی ، اس کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی گئی اور اس کے ساتھی کو بھی مارا گیا۔ہندوستانی حکام نے گینگ ریپ کرنے کے الزام میں چار مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
انسٹاگرام پر دو لاکھ سے زیادہ فالوورز رکھنے والی معروف ٹریول بلاگر مشرقی بھارت کی ریاست جھارکھنڈ میں اپنے ساتھی کے ساتھ سفر کر رہی تھی جب اس پرحملہ ہوا۔
جوڑے نے اپنی موٹرسائیکلیں روک کر ریاست کے ڈمکا ضلع میں رات گزارنے کے لیے خیمہ لگایا تھا تاہم اس دوران ان پر سات افراد کے ایک گروپ نے حملہ کیا۔جھارکھنڈ پولیس نے گروپ کے چار ارکان کو گرفتار کر لیا ہے ، پولیس کا کہنا ہے کہ باقی ملزمان کو جلد ہی گرفتار کر لیا جائے گا۔

دوسری جانب حالیہ کیس بھارت میں خواتین کے تحفظ پر سوالیہ نشان کھڑا کر رہا ہے۔ بھارت میں ایک دن بھی ایسا نہیں گزرتا جس میں عصمت دری کے کیس رپورٹ نہ ہوں، جس کی وجہ سے یہ سوال مزید شدت اختیار کرتا جارہا ہے کہ کیا ہندوستان خواتین کے لیے محفوظ ہے؟۔
بھارت میں خواتین کی حفاظت ایک وسیع پیمانے پر زیر بحث اور سنگین مسئلہ ہے کیونکہ خواتین نہ گھر میں محفوظ ہیں نہ باہر۔

اس کے لیے ہندوستانی حکومت اور عدلیہ نے خواتین کے تحفظ کے لیے مضبوط اور مفصل قوانین بھی بنائے۔تاہم حفاظتی حالات ہندوستان کی مختلف ریاستوں اور شہروں میں وسیع پیمانے پر مختلف ہو سکتے ہیں۔ کچھ علاقوں کو خواتین کے لیے زیادہ محفوظ سمجھا جاتا ہے، جب کہ دیگر کو زیادہ چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
سفر کے دوران احتیاطی تدابیر
اگر آپ سفر میں ہیں تو کال کرنے یا انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرنے کے لیے مقامی سم کارڈ یا بین الاقوامی رومنگ سے جڑے رہیں۔
محفوظ مقامات کا انتخاب کریں، مقامی لوگوں کے بارے میں پہلے مکمل معلومات حاصل کرلیں۔
ہمیشہ اپنے ارد گرد کے ماحول پر نظر رکھیں اور چوکنا رہیں۔
اگر کوئی صورتحال آپ کو غیر آرام دہ یا غیر محفوظ محسوس ہوتی ہے تو خود کو اس سے دور کریں۔
مقامی زبان کے بنیادی جملے سیکھیں جو مقامی لوگوں کے ساتھ رابطے میں آپ کی مدد کرسکتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








