اسٹیٹ بینک ڈیجیٹل کرنسی کے پائلٹ پروجیکٹ کیلئے تیار

تازہ ترین

تازہ ترین

گورنر اسٹیٹ بینک، فوٹو روئٹرز

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے گورنر جمیل احمد نے کہا ہے کہ ادارہ ڈیجیٹل کرنسی کے لیے ایک پائلٹ پروجیکٹ شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور ورچوئل اثاثہ جات کو ریگولیٹ کرنے کے لیے قانون سازی کو حتمی شکل دے رہا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر کے مرکزی بینک بلاک چین پر مبنی ادائیگیوں میں بڑھتی دلچسپی کے پیش نظر ڈیجیٹل کرنسیوں کے استعمال کا جائزہ لے رہے ہیں۔

پاکستان کا یہ اقدام چین، بھارت، نائیجیریا اور کئی خلیجی ممالک کے ریگولیٹرز کے ان اقدامات کے بعد سامنے آیا ہے، جنہوں نے کنٹرول شدہ پائلٹ پروگراموں کے ذریعے ڈیجیٹل کرنسیاں آزمانے یا جاری کرنے کے اقدامات کیے ہیں۔

سنگاپور میں رائٹرز نیکسٹ ایشیا سمٹ میں گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ پاکستان ’ سینٹرل بینک ڈیجیٹل کرنسی پر اپنی صلاحیت کو بڑھا رہا ہے’ اور امید ہے کہ جلد ہی ایک پائلٹ شروع کیا جائے گا۔

وہ سری لنکا کے مرکزی بینک کے گورنر پی. نندلال ویراسنگھے کے ساتھ ایک پینل پر بات کر رہے تھے، جہاں دونوں جنوبی ایشیا میں مالیاتی پالیسی کے چیلنجز پر گفتگو کر رہے تھے۔

جمیل احمد نے کہا کہ ایک نیا قانون ’ ورچوئل اثاثہ جات کے شعبے کے لائسنسنگ اور ریگولیشن کی بنیاد رکھے گا’ اور مرکزی بینک کچھ ٹیکنالوجی پارٹنرز کے ساتھ رابطے میں ہے۔

یہ اقدام پاکستان کرپٹو کونسل (پی سی سی) کی کوششوں پر بھی مبنی ہے، جو حکومت نے مارچ میں ورچوئل اثاثہ جات کو فروغ دینے کے لیے قائم کی تھی۔

پی سی سی کے چیف ایگزیکٹو افسر اور بلاک چین و کرپٹو کے ریاستی وزیر بلال بن ثاقب نے آج ایک بیان میں کہا کہ حکومت نے ورچوئل اثاثہ جات ایکٹ 2025 کی منظوری دے دی، جس کے تحت کرپٹو شعبے کو لائسنس دینے اور نگرانی کے لیے ایک خود مختار ریگولیٹر قائم کیا گیا ہے۔

پی سی سی اضافی توانائی استعمال کرتے ہوئے بٹ کوائن مائننگ پر غور کر رہی ہے، بائنانس کے بانی چانگ پینگ ژاؤ کو اسٹریٹجک ایڈوائزر مقرر کیا گیا ہے اور ریاستی سطح پر ایک اسٹریٹجک بٹ کوائن ریزرو قائم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔

پی سی سی نے امریکا میں قائم کرپٹو کمپنیوں کے ساتھ بھی بات چیت کی ہے، جن میں ورلڈ لبرٹی فنانشل شامل ہے، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے منسلک ہے۔

مئی میں، اسٹیٹ بینک نے واضح کیا تھا کہ ورچوئل اثاثہ جات غیر قانونی نہیں ہیں، تاہم اس نے مالیاتی اداروں کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اس وقت تک ورچوئل اثاثہ جات کے میدان میں قدم نہ رکھیں جب تک کہ باقاعدہ لائسنسنگ کا فریم ورک وضع نہ ہو جائے

انہوں نے پینل میں کہا کہ ’ اس نئے ابھرتے شعبے میں خطرات بھی ہیں اور مواقع بھی، لہٰذا ہمیں ان خطرات کا بغور جائزہ لے کر ان کا انتظام کرنا ہے اور ساتھ ہی موقع کو ضائع بھی نہیں ہونے دینا۔’’

Related Posts