راولپنڈی پولیس نے پی ٹی آئی کے 24 نومبر کو اسلام آباد میں احتجاج سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی بنالی۔ حکومت نے 8 بجتے ہی موٹرویز بند کردیے۔ اسلام آباد کے تمام بس اڈے اور ہاسٹلز بھی بند کروا دیئے گئے ہیں جبکہ وفاقی شہر میں 30 ہزار اضافی نفری پہنچ گئی ہے۔
لاہور میں بابو صابو انٹر چینج پر کنٹینر لگاکر موٹر وے بند کردی گئی ہے۔ نیازی اڈا سے بابو صابو انٹر چینج تک گاڑیوں کی آمد و رفت بُری طرح متاثر ہوئی ہے۔ بابو صابو موٹر وے پر ہزاروں کنٹینر موجود ہیں۔ موٹر وے کی بندش سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
حکومت نے موٹرویز رات 8 بجتے ہی بند کردیے۔ آئی جی موٹروے نے موٹروے پولیس کو اس حوالے سے احکامات جاری کیے ہیں۔
موٹروے پولیس کے مطابق ایم ون، ایم 2، ایم 3، ایم 4، ایم 11، اور ایم 14 کو روڈ مرمت کے باعث بند کیا جا رہا ہے۔
یہ بندش پشاور سے اسلام آباد اور لاہور سے اسلام آباد کی موٹرویز پر رہے گی۔ اس کے علاوہ، لاہور سے عبدالحکیم اور پنڈی بھٹیاں سے ملتان تک بھی موٹروے بند رہے گی۔ پولیس نے عوام کو ہدایت دی کہ وہ اس صورتحال کے پیش نظر اپنی سفری منصوبہ بندی کریں۔
اسلام آباد میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے 30 ہزار اضافی نفری پہنچ گئی ہے۔ اس میں پنجاب پولیس کے 19 ہزار، آزاد کشمیر کے ایک ہزار اہلکار، سندھ سے 5 ہزار اہلکار اور ایف سی کے 5 ہزار اہلکار شامل ہیں۔
تمام نفری اسلام آباد پولیس کی معاونت کرے گی تاکہ کسی بھی ممکنہ احتجاجی مظاہرین کو مؤثر طریقے سے منتشر کیا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق، تمام سیکورٹی اہلکار احتجاجی مظاہرین سے نمٹنے کے لیے مکمل ساز و سامان سے لیس ہیں۔
اسلام آباد پولیس کی موجودہ نفری تقریباً 11 ہزار کے قریب ہے، جو اضافی نفری کے ساتھ مل کر صورتحال کو کنٹرول کرنے میں مدد فراہم کرے گی۔
علاوہ ازیں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاج کی کال کے معاملے پر جڑواں شہروں میں چلنے والی میٹروبس سروس بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
میٹروبس سروس چوبیس نومبرکومکمل طور پربند رہے گی۔ میٹروبس سروس صدر اسٹیشن تا پاک سیکریٹریٹ اسٹیشن تک بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ضلعی انتظامیہ کی ہدایت پر میٹروبس سروس مکمل طور پر بند کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی احتجاج کو روکنے اور کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے 4888 اہلکار تعینات ہوں گے، راولپنڈی شہر میں 5 ایس پیز، 21 ڈی ایس پیز، 84 انسپیکٹر اور ایس ایج اوز تعینات کیے جائیں گے، ہر تھانے کے مختص کردہ پوائنٹس پر 6 آنسو گیس گن اور 500 آنسو گیس کے شیل موجود ہوں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ہر پوائنٹ پر نفری کے پاس 2 گن 12 بور اور 100 ربڑ کی گولیاں دی جائیں گی، اضافی ربڑ کی گولیوں اور آنسو گیس کے شیل کے لیے خصوصی ٹیم اسٹینڈ بائی ہوگی، دوران ڈیوٹی افسران اور اہلکار موبائل فون کے ہمراہ لے جانے پر پابندی ہوگی، افسران اور اہلکار دیگر اسلحہ اپنے ہمراہ نہیں رکھیں گے۔
ذرائع کے مطابق راولپنڈی میں کسی بھی کارکن کو داخل نہیں ہونے دیا جائے گا، راول ڈویژن میں 40 سے زائد مقامات پر رکاوٹیں راستوں کو بلک کیا جائے گا، راول ڈویژن میں 12 خصوصی ٹیمیں بھی مختلف مقامات پر تعینات رہے گی، کینٹ سرکل میں 14 مقامات پر رکاوٹیں لگا کر نفری کو تعینات کیا جائے گا، ٹیکسلا سرکل میں 7 مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کی جائیں گی جبکہ براہمہ انٹر چینج، پسوال انٹر چینج پر بھی رکاوٹیں کھڑی کی جائیں گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








