واشنگٹن: کیا انگیوں کے پوروں پر لچکدار اسٹیکر لگا کر اس سے بجلی بنائی جاسکتی ہے؟ اس کا جواب جامعہ کیلیفورنیا کے ماہرین نے انگلیوں کے کناروں پر لگائے گئے باریک اسٹیکر سے بجلی بنانے کا عملی مظاہرہ کر کے کیا ہے۔ یہ بجلی انسانی پسینے سے تیار کی جاتی ہے۔
پسینے سے بجلی بنانے والا یہ آلات بائیوفیول سیل (بی ایف سی) کہلاتے ہیں۔ انہیں پہن کر اتنی بجلی تو بنائی جاسکتی ہے کہ برقی پہناوے (ویئرایبلز) کے لیے بجلی بنائی جاسکتی ہے۔ بی ایف سی سوتے میں بھی بجلی بناتے رہیں گے۔ اس کے علاوہ کی بورڈ ٹائپنگ سے بھی یہ بجلی بناسکیں گے۔
سائنسداں جوزف وینگ کہتے ہیں کہ ہم چاہتے ہیں کہ لوگ چھونے، ٹی وی دیکھنے اور کھانے یینے کے دوران بجلی پیدا کرتے رہیں۔ جوزف نینو انجینیئرنگ کے ماہر ہیں۔ ماہرین چاہتے ہیں کہ لوگ شعوری طور پر برقی رو بنا سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو بہت انقلابی قرار دیا جارہا ہے۔
اس کے لیے انگلیاں بہترین انتخاب ہیں کیونکہ انگلیوں کے کناروں پر پسینے کے غدود بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ شاید اس وجہ سے انگلیوں کے پور پسینے سے بھرپور ہوتے ہیں کہ ہم اشیا کو تھام سکیں۔ فی منٹ چند مائیکرو لیٹر پسینہ ایک انگلی سے خارج ہوسکتا ہے۔
لیکن اس پسینے سے 300 ملی جول فی مربع سینٹی میٹر بجلی بنائی جاسکتی ہے۔ تجرباتی طور پر سائنسدانوں نے وٹامن سی محسوس کرنے والا ایک آلہ کامیابی سے چلایا ہے جسے تھوڑی سی تبدیلی کے بعد خون میں شکر ناپنے والے گلوکوز میٹرمیں ڈھالا جاسکتا ہے.
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کو مستقبل کی سفارتکاری کی بنیاد اقتصادیات پر رکھنا ہوگی، معید یوسف
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








