طالبان حکومت کا ایسا بے مثال منصوبہ جو افغانستان سے غربت کا خاتمہ کرنے والا ہے

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو اسلامک پریس

افغانستان کی طالبان حکومت کی جانب سے ملک سے خشک سالی کا خاتمہ کرنے اور زرعی انقلاب برپا کرنے کیلئے قوش تیبپہ کینال کے منصوبے نے دنیا کو حیران کردیا ہے۔

افغانستان ایک لینڈ لاکڈ ملک ہے، یعنی ایسا ملک جس چاروں طرف سے خشکی میں گھرا ہوا ہے اور اس کی سرحدوں میں کوئی سمندری ساحل واقع نہیں ہے۔

لینڈ لاکڈ ملک ہونے کی وجہ سے افغانستان کو ایک تو اپنی تمام تر درآمدات اور برآمدات کیلئے مکمل طور پر ایسے پڑوسی ملکوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے، جو لینڈ لاکڈ نہیں ہیں اور جہاں سمندر واقع ہیں۔

سمندر نہ لگنے کا دوسرا نقصان یہ ہے کہ افغانستان میں اکثر و بیشتر خشک سالی اور پانی کی کمی رہتی ہے جس کی بنا پر افغانستان میں زراعت اور کھیتی باڑی بڑے پیمانے پر فروغ نہیں پاسکتی۔

سنہ 2021 میں بر سر اقتدار آنے کے بعد طالبان نے فوری طور پر افغانستان کی خشک سالی کو ختم کرنے اور ملک میں زراعت کا انقلاب برپا کرنے کیلئے ایک ایسے منصوبے کا آغاز کیا جس پر عملدرآمد کی ہمت آج تک کوئی نہیں کرسکا تھا۔

یہ منصوبہ تھا قوش تیپہ کینال کا، جو ازبکستان کی سرحد پر بہنے والے دریائے آمو (دریائے جیحوں) سے نہر نکالنے کے انتہائی کٹھن، طویل اور مہنگے شوق پر مشتمل ہے، مگر طالبان کے عزم و ہمت کے باعث اب یہ خواب بڑی تیزی سے تعبیر میں ڈھلتا جا رہا ہے۔

قوش تیپہ کینال مجموعی طور پر ساڑھے پانچ ہزار کلومیٹر کے علاقے کو سیراب کرے گا، اس منصوبے کے اخراجات کا تخمینہ 680 ملین ڈالر لگایا گیا ہے، کمال یہ ہے کہ افغانستان کی طالبان حکومت نے یہ بھاری اخراجات اپنے وسائل سے پورے کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کیلئے کسی ملک یا عالمی ادارے سے ایک پیسہ بھی قرض نہیں لیا گیا ہے۔

اس کینال کی لمبائی 285 کلومیٹر، چوڑائی 100 میٹر اور گہرائی 8.5 میٹر ہے۔ یہ کینال ازبکستان کی سرحد پر واقع افغان صوبہ بلخ سے شروع ہوکر حیرتان پر ختم ہوگا۔

یہ کینال تقریبا تیس لاکھ ایکڑ اراضی کو سیراب کرے گا۔ طالبان انتظامیہ نے اس کینال کو تین مراحل میں مکمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پہلا مرحلہ 108 کلومیٹر طویل ہے، جو مکمل ہونے والا ہے، اس فیز پر 94 ملین ڈالر کے اخراجات آئے ہیں۔

دوسرا مرحلہ 177 کلومیٹر ہے، جبکہ تیسرے مرحلے میں اس نہر سے ملحقہ اضلاع کیلئے پانی کی تقسیم کا عمل مکمل ہوگا۔ اس نہر سے جہاں وسیع اراضی سیراب ہوگی وہاں اڑھائی لاکھ افراد کو روزگار بھی میسر آئے گا۔

امید کی جا رہی ہے کہ یہ نہر تکمیل کے بعد افغانستان میں زرعی انقلاب کا سبب بنے گی اور اس کے نتیجے میں افغانستان خطے میں ابھرتا ہوا غلہ برآمد کنندہ ملک بن جائے گا۔

Related Posts