آج معروف گلوکار علی عظمت کا 50واں یومِ پیدائش ہے جبکہ علی عظمت نے ایبٹ آباد میں 20 اپریل 1970ء کو آنکھ کھولی۔ ان کا پورا نام علی عظمت بٹ ہے۔
پاکستانی گلوکار علی عظمت کے 50ویں یومِ پیدائش کے موقعے پر آج ہم ان کی زندگی کا ایک مختصر احوال پیش کر رہے ہیں تاکہ موسیقی سے شغف رکھنے والے علی عظمت کے مداح ان کی زندگی کے بارے میں بھی کچھ نہ کچھ جان سکیں۔
علی عظمت کی ابتدائی زندگی
علی عظمت صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع ایبٹ آباد میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ایبٹ آباد کے شہر حویلیاں میں جنم لیا جہاں ان کے محترم دادا ریلوے اسٹیشن ماسٹر تھے۔
بعد ازاں علی عظمت لاہور کے علاقے گڑھی شاہو میں پلے بڑھے۔ ان کے آباواجداد کشمیر سے تعلق رکھتے تھے۔ علی عظمت کے والد نذیر احمد بٹ متوسط طبقے کی ایک کاروباری شخصیت تھے۔
نذیر احمد بٹ کا انتقال 2013ء میں ہوا۔ علی عظمت اعلیٰ تعلیم کیلئے آسٹریلیا کے شہر سڈنی پہنچے لیکن یونیورسٹی کی تعلیم مکمل کرنے سے قبل پاکستان چلے آئے۔
جوپیٹرز کے تحت گانے کا جنون
مشتری یعنی جوپیٹر ہمارے نظامِ شمسی کا سب سے بڑا سیارہ ہے۔ نظامِ شمسی میں اس سیارے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہ گیسی دیو کہلانے والا سیارہ زمین کی طرف آنے والی بڑی بڑی مصیبتوں کو اپنی طرف کھینچ کر انہیں غائب کردیتا ہے۔
گلوکار علی عظمت نے سن 1986ء میں جوپیٹرز کے ساتھ اپنے گلوکاری کے کیرئیر کا آغاز کیا۔ یہ بینڈ لاہور سے شروع ہوا تھا جو پاپ اور راک گائیکی کے میدان میں نام پیدا کر رہا تھا۔
جوپیٹرز میں رہتے ہوئے علی عظمت نے دوستی لکھا جو ایک ایسا گانا بنا جس نے آگے چل کر علی عظمت کو قومی سطح پر مشہور کردیا، تاہم یہ گانا علی عظمت نے جوپیٹرز کو نہیں دیا۔
جنون میں شرکت
علی عظمت نے سن 1990ء میں جوپیٹرز چھوڑ کر جنون میں شرکت اختیار کر لی جہاں انہوں نے دوستی نام کا گانا مکمل کرکے قومی سطح پر شہرت پائی۔ انہوں نے اپنا پہلا البم جنون ریلیز کیا جو بینڈ کے بانی اور لیڈگٹارسٹ سلمان احمد نے پروڈیوس کیا تھا۔
اس کے بعد علی عظمت نے جنون کے بینڈ میں رہتے ہوئے اپنا دوسرا البم تلاش ریلیز کیا جس نے جنون اور علی عظمت دونوں کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔
سن 1995ء میں علی عظمت نے کشمکش نامی البم ریلیز کیا۔ انقلاب 1996ء میں ریلیز ہونے والا ہٹ البم تھا۔ اس کا گانا اے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار ایک سپر ہٹ ثابت ہوا۔
بعد ازاں 1996ء کے ورلڈ کپ کے دوران قومی کرکٹ ٹیم نے جنون کے گانے جذبہ جنون کو اپنا قومی گانا ٹھہرایا جس سے علی عظمت کو زبردست پذیرائی حاصل ہوئی۔
اپنے چوتھے البم آزادی کے گانے سیونی سے علی عظمت نے صوفی راک سنگر کے طور پر شہرت حاصل کی۔ انہیں آزادی کی بھارت میں ریلیز سے عالمی شہرت ملی۔
جنون کا منفرد اعزاز
جذبہ جنون جیسے وطن سے محبت سے معمور گیت تخلیق کرنے والے بینڈ جنون کو ایک منفرد اعزاز بھی حاصل ہے جس کے سبب جنون ایک اہم بینڈ بن گیا۔
متاثر کن صوفی راک بینڈ جنون سن 2001ء میں اس وقت پہلا پاکستانی بینڈ بن گیا جس نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں گانا گا کر پاکستان کا نام دنیا بھر میں روشن کردیا۔
اس کے علاوہ علی عظمت نے 1999ء میں پرواز، 2001ء میں انداز، 2003ء میں دیوار اور 2007ء میں انفنٹی نامی البمز ریلیز کیے جس کے بعد جنون کا بینڈ ٹوٹ گیا اور علی عظمت اس سے الگ ہو گئے۔
بھارت میں گلوکاری اور سولو کیرئیر
جنون سے الگ ہونے سے قبل ہی سن 2003ء میں علی عظمت نے بھارتی فلم انڈسٹری (بالی ووڈ) کیلئے کام شروع کردیا تھا۔سب سے پہلے ان کا گانا گرج برس پاپ نامی بھارتی فلم کا حصہ بنایا گیا ۔
علی عظمت نے بھارتی فلم جسم 2 کیلئے 2 گانے ریکارڈ کیے جن میں یہ جسم ہے تو کیا اور مولا شامل ہیں تاہم علی عظمت نے گلوکاری کے ساتھ ساتھ اداکاری بھی کی ہے۔
علی عظمت کی اداکاری
علی عظمت کو گلوکار کے طور پر بے پناہ شہرت ملی، تاہم ایک اداکار کے طور پر بھی علی عظمت نے اپنے فن کا لوہا منوایا ہے۔ پاکستانی فلم ”وار“ میں علی عظمت نے ایک سیاستدان کا کردار ادا کیا ہے۔
ایک سیاستدان کے طور پر علی عظمت کے کردار میں فنی پختگی نظر آتی ہے جس سے اداکاری کے میدان میں آگے بڑھنے کے لیے ان کی راہ ہموار ہو گئی۔
انہوں نے جھول نامی فلم میں بھی اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں، تاہم یہ فلم ابھی تک ریلیز نہیں ہوئی اور ان کے مداحوں کو فلم ریلیز ہونے کا انتظار ہے۔
کوک اسٹوڈیو اور علی عظمت
علی عظمت نے کوک اسٹوڈیو میں بھی گلوکار کے طور پر متعدد گیت گائے ہیں۔ کوک اسٹوڈیو کے سیزن 6 میں انہوں نے بابو بھائی گایا۔
اسی طرح کوک اسٹوڈیو سیزن 7 میں علی عظمت نے رنگیلا اور سیزن 9 میں من کنت مولا گایا۔ کوک اسٹوڈیو کے سیزن 11 میں بھی انہوں نے گلوکاری کے جوہر دکھائے۔ عوام نے علی عظمت کی کارکردگی کو بے حد سراہا۔
علی عظمت کے اعزازات
پاپ بینڈ جنون نے چینل 5 کے بیسٹ انٹرنیشنل گروپ کا ایوارڈ 1998ء میں جیتا جو دہلی میں منعقد ہوا۔ صرف بھارت میں بینڈ کی پہلی عالمی ریلیز آزادی نے ٹرپل پلاٹینم جیتا۔
جنون کے گانے سیونی نے ایم ٹی وی انڈیا اور چینل وی کے چارٹس پر 2 مہینے تک راج کیا۔ جنون نے انڈس میوزک ایوارڈز 2004ء میں بیسٹ راک بینڈ کا ایوارڈ جیتا۔
اسی سال 2004ء میں اے آر وائی ایشین اور بالی ووڈ ایوارڈز بھی جنون کے نام رہے۔ اس کے علاوہ بی بی سی، یونیسکو اور ساؤتھ ایشین جرنلسٹ ایسوسی ایشن کی طرف سے بھی متعدد اعزازات دئیے گئے۔
علی عظمت نے بیسٹ پاپ میل آرٹسٹ کا اعزاز جیتا۔ پاکستان اسٹائل ایوارڈز 2010ء کا ایوارڈ اور اسٹائلش سنگر میل کا ایوارڈ بھی علی عظمت نے حاصل کیا ہے۔
اداکار و گلوکار کے طور پر علی عظمت نے آج تک شائقینِ موسیقی و اداکاری سے بیش بہا داد سمیٹی ہے اور موسیقی اور اداکاری کے میدان میں ان کا سفر ابھی جاری ہے۔