دی گریٹ انڈین کپل شو میں بلا کر سمے رائنا کے ہاتھوں تذلیل، سنیل پال اسے بے عزتی کیوں نہیں سمجھتے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

سنیل پال
(فوٹو: آن لائن)

لافٹر چیلنج سے شہرت حاصل کرنے والے معروف بھارتی کامیڈین سنیل پال نے جونیئر کامیڈین سمے رائنا کے ہاتھوں ذاتیات پر تنقید کی ویڈیو وائرل ہونے پر اپنے ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں اسے بے عزتی نہیں سمجھتا۔ 

تفصیلات کے مطابق سنیل پال کو حال ہی میں کپل شرما کے نیٹ فلکس شو دی گریٹ انڈین کپل شو میں شرکت کی دعوت دی جس کے دوران سنیل پال اور سمے رائنا آمنے سامنے آگئے۔ اس دوران اسکرین پر دونوں کی نوک جھونک عوامی توجہ کا مرکز بن گئی۔

نوک جھونک یا بے عزتی؟

بعض سوشل میڈیا صارفین کا ماننا ہے کہ سنیل پال کو کپل شرما کے شو میں صرف مذاق کا نشانہ بنانے کیلئے دعوت دی گئی تھی، ایک پرومو میں سمے رائنا کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ سر، مجھے آپ سے صرف ایک مسئلہ ہے کہ آپ اپنے دانت برش کیوں نہیں کرتے؟

بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ سمے رائنا نے سنیل پال کی شکل و صورت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ چپل پہننا پسند کرتے ہیں اور جوتے تو ویسے ہی ان تک پہنچ جاتے ہیں۔ اس دوران نوجوت سنگھ سدھو اور ارچنا پورن سنگھ اپنے روایتی انداز میں ہنستے اور قہقہے لگاتے نظر آئے۔

یہاں سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور یوٹیوبرز نے سنیل پال کی کامیڈی کے انداز کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور بار بار یہ کہا جاتا رہا کہ سنیل پال کی پنچ لائن یا لطیفوں پر کوئی بھی ہنس نہیں رہا تھا جس سے شو کے دوران ایک عجیب سی فضا دیکھی گئی۔

تاہم سوشل میڈیا صارفین نے اسے توہین قرار دیا۔ اس کے باوجود بھارت میڈیا سے گفتگو میں تمام تر عوامی تنقید پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے سنیل پال نے کہا کہ میں نے اسے توہین نہیں سمجھا کیونکہ یہ ایک کامیڈی شو تھا۔ ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنا اس فارمیٹ کا ایک حصہ ہے۔

کامیڈین سنیل پال نے کہا کہ اگر کوئی آپ کے سامنے آجائے تو آپ اسے نقصان پہنچانے کی بجائے مذاق کرتے ہیں۔ میں نے بھی اس پر پنچ لائنز بنائیں اور اس نے بھی ایسا ہی کیا۔ اگر ماحول سنجیدہ ہوتا تو شاید میرا ردِ عمل مختلف ہوتا لیکن کامیڈی تو شاہ رخ خان جیسے بڑے ستاروں کو بھی نہیں بخشتی۔

سنیل پال نے کہا کہ مجھے یہ پہلے سے معلوم تھا کہ سمے رائنا شو میں موجود ہوں گے اور میرا ان سے کوئی ذاتی مسئلہ نہیں تھا۔ یہ کوئی ذاتی دشمنی کی بات نہیں بلکہ رائے کا اختلاف ہے۔ مجھے سمے سے نہیں بلکہ کئی جنریشن زی کامیڈینز سے مسئلہ ہے جو گالی گلوچ پر انحصار کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب آپ کے پاس صلاحیت، تعلیم اور پلیٹ فارم موجود ہیں تو آپ کا مواد بہتر ہونا چاہئے، نہ کہ بھدا۔ ناظرین صاف ستھری اور بامقصد کامیڈی کے مستحق ہیں اور نوجوان کامیڈینز اپنی سہولیات کا ذمہ داری سے استعمال کرکے انہیں وہ کامیڈی فراہم کرسکتے ہیں، جیسا کہ ہم نے اپنے دور میں فیملی فرینڈلی کامیڈی کا انتخاب کیا۔

Related Posts