سندھ میں دریائے سندھ میں آج انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جس کے باعث متاثرہ علاقوں سے لوگوں کی نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے۔
اطلاعات کے مطابق پنجاب سے آنے والا سیلابی ریلا گڈو بیراج کے مقام پر پہنچ رہا ہے جس کی وجہ سے کشمور کے دریا کنارے واقع علاقوں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ کوٹ مٹھن کے مقام پر پانی کی سطح میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے جس کے بعد بڑی تعداد میں لوگ محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہو رہے ہیں۔
ضلعی انتظامیہ نے شہریوں سے ایک بار پھر اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر دریا کے قریبی علاقوں کو خالی کر دیں تاکہ کسی جانی نقصان سے بچا جا سکے۔
کیرتھر کے پہاڑی علاقوں میں بارشوں کے بعد برساتی نالے اور چھوٹے دریا ابل پڑے ہیں جس سے نشیبی علاقوں کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ سندھ کے صوبائی وزیر آبپاشی جام خان شورو نے عوام کو یقین دلایا ہے کہ حکومت کی جانب سے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری کی جا چکی ہے اور کسی بھی بند (بندہ) کو توڑنے کی نوبت نہیں آئے گی تاہم انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس ممکنہ سپر فلڈ کے نتیجے میں ایک سے دو لاکھ افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب صوبائی رین اینڈ فلڈ ایمرجنسی مانیٹرنگ سیل کی جانب سے دریاؤں اور بیراجوں پر پانی کے بہاؤ کے اعداد و شمار جاری کیے گئے ہیں۔
گڈو بیراج پر پانی کا آمدی بہاؤ 4,25,000 کیوسک اور اخراج 4,16,763 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔
سکھر بیراج پر پانی کی آمد 3,52,000 کیوسک اور اخراج 3,29,310 کیوسک رہا۔
کوٹری بیراج پر پانی کی آمد 2,35,243 کیوسک اور اخراج 2,31,763 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔
پنجند بیراج پر پانی کی آمد و اخراج دونوں 5,24,765 کیوسک جبکہ تریموں بیراج پر دونوں کا بہاؤ 5,31,993 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔
انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ حکومتی ہدایات پر عمل کریں اور خطرناک علاقوں سے بروقت انخلا کو یقینی بنائیں تاکہ کسی بڑی آفت سے بچا جا سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








