فل کورٹ نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کو درست قرار دے کر اس کے خلاف دائر درخواستیں خارج کر دیں۔
سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیس کا فیصلہ ساڑھے پانچ بجے سنائے جانے کا وقت دیا گیا تھا۔
اٹارنی جنرل عثمان منصور کے دلائل مکمل ہونے کے بعد سپریم کورٹ کے فل کورٹ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ تاخیر کے لیے معذرت چاہتے ہیں کہ معاملہ بہت تکنیکی تھا، پہلے آج کا حکم نامہ پڑھ کر سناؤں گا۔
چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ دس پانچ کے تناسب سے ایکٹ کو برقرار رکھا جاتا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ جسٹس اعجازالاحسن، جسٹس منیب اختر نے فیصلے سے اختلاف کیا، جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس عائشہ ملک نے اختلافی نوٹ لکھا۔ جسٹس شاہد وحید نے بھی فیصلے سے اختلاف کیا۔
فیصلے کے مطابق آٹھ سات کی اکثریت سے پریکٹس اینڈ پروسیجر میں اپیل کا حق ماضی سے دینے کی شق کالعدم قرار دے دی گئی ہے۔ اپیل کا حق ماضی سے دینے کی شق کالعدم قرار دینے کے فیصلے سے چیف جسٹس نے اختلاف کیا۔
۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








