اسلام آباد: سپریم کورٹ نے پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر حملے سے متعلق رپورٹ کو عام کرنے کا حکم دیدیا ہے۔
کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گردوں نے 16 دسمبر 2014 کو پشاور میں فوج کے زیر انتظام اسکول پر حملے میں 140 سے زائد بچوں اور اسکول کے عملے کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد اور اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔
حملے کی تحقیقات کے لئے بنائے گئے جوڈیشل کمیشن نے عدالت میں 3ہزارصفحات کی انکوائری رپورٹ پیش کی ۔ اس میں 101 گواہوں اور 31 پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دیگر عہدیداروں کے بیانات شامل ہیں،رپورٹ پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس محمد ابراہیم خان نے تیار کی تھی ۔
چیف جسٹس گلزار احمد نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر امان اللہ کنرانی کو شہدا ء کے والدین کو قانونی مدد فراہم کرنے کا حکم دیا جبکہ اٹارنی جنرل کو آئندہ سماعت پر حکومت کی حکمت عملی پیش کرنیکا حکم دیا گیا ہے۔