سپریم کورٹ کا حکومتی اقدامات پر فوری حکم امتناعی دینے سے انکار

تازہ ترین

تازہ ترین

Supreme Court refuses to issue immediate restraining order on government measures

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے حکومت اقدامات کیخلاف اپوزیشن کی جانب سے فوری حکم امتناعی دینے کی استدعا مسترد کردی۔

سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ حکومت اقدامات کر چکی ہے،اب اس پر حکم امتناعی جاری نہیں کیا جا سکتا کسی کو بھی اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دیں گے کوئی بھی ریاستی ادارہ غیر آئینی اقدام نہ کرے۔

ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد کو بغیر ووٹنگ کے مسترد کیے جانے کے بعد چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے ملک میں پیدا ہونے والی سیاسی صورت حال کے بعد ازخود نوٹس لیا۔

چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے معاملے پر سماعت کی، بینچ میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس اعجاز الاحسن شامل ہیں۔

عدالت نے سیکرٹری دفاع کو ملک میں امن وامان سےمتعلق اقدامات پرآگاہ کرنےکانوٹس جاری کیا اور چیف جسٹس نے کہا کہ رمضان شریف ہے، سماعت کو لٹکانا نہیں چاہتے۔سیاسی جماعتیں پر امن رہیں، کوئی ماورائے آئین اقدام نہ اٹھا یا جائے۔

مزید پڑھیں:اسپیکر کی رولنگ مسترد، عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب، شہبازشریف نئے وزیراعظم منتخب

جسٹس عمر عطا بندیال نے حکم دیا کہ امن وامان کی صورتحال کو برقرار رکھا جائے، عدالت کا حکم آج کیلئے یہی ہے۔

عدالت نے حکم دیا کہ سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری دفاع امن وامان کی صورتحال سے عدالت کو آگاہ کریں۔

چیف جسٹس نے پیپلزپارٹی کی درخواست مقرر کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ سپریم کورٹ ڈپٹی اسپیکر کے اقدامات کا جائزہ لے گی۔

Related Posts