دمشق: جنگ سے متاثرہ شام میں بشارالاسد کوچوتھی مدت کیلئے صدر منتخب کرلیا گیا، انتخاب میں دھاندلی کے الزامات بھی سامنے آگئے۔
بشارالاسد کے دور صدارت میں شام میں جاری جنگ میں اب تک 3لاکھ 88 ہزار سے زائد افراد زندگیوں سے محروم ہوچکے ہیں اور ملک کا انفرااسٹرکچر تباہ ہوچکا ہے۔
شام کے پارلیمانی اسپیکر نے گزشتہ روز بشار الاسد کی کامیابی کا اعلان کیا ، ان کا کہنا تھا کہ بشارالاسد نے 95اعشاریہ ایک فیصد ووٹوں سے کامیابی حاصل کی۔
واضح رہے کہ بشار الاسد عرب سوشلسٹ باتھ پارٹی کے شام کی قیادت والی شاخ کے صدر ہیں۔ وہ 30 سال تک شام کی قیادت کرنے والے اپنے والد حافظ الاسد کی موت پر کامیاب ہوئے اور2000ء کے بعد سے صدر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
بشارالاسد چوتھی مرتبہ سات سالہ مدت کیلئے صدر منتخب ہوئے ہیں، انہوں نے 1 کروڑ 30 لاکھ ووٹ حاصل کئے جبکہ ووٹنگ کی شرح 78 فیصد رہی۔
ان کے مدمقابل امیدوار اور حکومت کے باغی اتحاد نیشنل فرنٹ کے سابق سیکرٹری جنرل محمود احمد ماری صرف3.1 فیصد ووٹ حاصل کر سکے جبکہ سوشلسٹ نینسٹ پارٹی کے عبداللہ سلم عبداللہ 1.5 فیصد ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔
امریکی حمایت یافتہ کردوں کے علاقے ادلب میں الیکشن کا بائیکاٹ کیا گیا۔ بشارالاسد کے مخالفین اور مغربی ممالک نے انتخابات میں دھوکہ دہی کاالزام عائد کیا ہے۔