نواز شریف نے وزیر اعظم نہ بننے کا فیصلہ کب کیا؟ طلال چوہدری نے بتا دیا

تازہ ترین

تازہ ترین

طلال چوہدری
(فوٹو: آن لائن)

مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما و سینیٹر طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ نواز شریف کا خود وزیراعظم نہ بننا اور شہباز شریف کو وزیراعظم بنانا ایک ماسٹر اسٹروک ہے۔

نجی ٹی وی (جیو نیوز) کے پروگرام نیا پاکستان میں گفتگو کے دوران طلال چوہدری نے کہا کہ 2017 کے ٹی ایل پی دھرنے کا مقصد مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو ختم کرنا تھا جبکہ اس سازش کے ثبوت بھی موجود ہیں۔

گفتگو کے دوران طلال چوہدری نے دھرناانکوائری کمیشن میں کلین چٹ پر ردِ عمل دیتے ہوئے  کہا کہ دھرنے کے مقاصد کو مذہبی نہیں بلکہ سیاسی قرار دیا جاسکتا ہے، صوبائی حکومت دھرنے کی ذمہ دار نہیں بلکہ سازش کا شکار ہوئی تھی۔

سینیٹر طلال چوہدری نے کہا کہ سینیٹر عرفان صدیقی نواز شریف کے بہت قریب ہیں اور ان کی یہ بات درست ہے کہ نواز شریف نے الیکشن سے قبل ہی وزیراعظم نہ بننے کا فیصلہ کیا، مریم نواز کو وزیر اعلیٰ اور شہباز شریف کو وزیراعظم بنایا گیا۔

طلال چوہدری نے کہا کہ مریم نواز کو وزیر اعلیٰ اور شہباز شریف کو وزیراعظم بنانے کا فیصلہ نواز شریف کے خود وزیراعظم بننے سے بڑا ماسٹر اسٹروک جبکہ مولانا فضل الرحمٰن ایک بڑے سیاست دان ہیں، انہیں اپنے پاس لوٹنے کا مشورہ دوں گا۔

انہوں نے کہا کہ میں مولانا فضل الرحمٰن سے کہوں گا کہ جو پی ٹی آئی نے آپ کے ساتھ کیا، اس کے بعد آپ ہمارے پاس لوٹ آئیں، معاملات ہر مرتبہ تحریکوں سے حل نہیں کیے جاسکتے، سیاستدانوں کو مذاکرات کرنے ہوتے ہیں۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ بشریٰ بی بی کا نجی ہسپتال سے معائنہ سرکاری خرچ پر ہوا، طبی معانے کی رپورٹ سے ان کی کہانی جھوٹی ثابت ہوئی، طبی رپورٹ سے عمران خان اور اہلیہ  بھی  جھوٹے ثابت ہوئے ہیں۔

Related Posts