طالبان حکومت کے دعوے جھوٹے! ملک میں سیکیورٹی نام کی کوئی چیز نہیں؛ افغان کرکٹر راشد خان کا انکشاف

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

افغانستان کے کرکٹ کھلاڑی اسپنر راشد خان نے سابق انگلش کپتان کیون پیٹرسن کے ساتھ ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ وہ اپنے آبائی شہر میں آزادانہ طور پر گھوم نہیں سکتے اور سیکورٹی وجوہات کی بنا پر بلٹ پروف کار استعمال کرتے ہیں۔

راشد نے بتایا کہ یہ احتیاط ان کی ذاتی حفاظت کے لیے ضروری ہے کیونکہ افغانستان میں غیر متوقع حالات کی وجہ سے غلط جگہ اور غلط وقت پر ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔انٹرویو میں جب پیٹرسن نے پوچھا کہ کیا وہ افغانستان میں عام کار میں سفر کر سکتے ہیں یا سڑکوں پر آزادانہ گھوم سکتے ہیں۔

راشد نے جواب دیا کہ بالکل نہیں میں عام کار میں بھی نہیں جا سکتا۔ مجھے بلٹ پروف کار استعمال کرنی پڑتی ہے۔ میں صرف اپنی بلٹ پروف کار میں ہی سفر کرتا ہوں۔

راشد نے مزید وضاحت کی ہاں، مجھے یہ کرنا پڑتا ہے۔ یہ میری سیکورٹی کے لیے ہے۔ کوئی مجھے براہ راست گولی نہیں مارے گا لیکن اگر غلط جگہ اور غلط وقت پر پہنچ جاؤں تو مسئلہ ہو سکتا ہے۔ کار لاک ہوتی ہے اور کبھی کبھی لوگ اسے کھولنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ یہ کار انہوں نے خاص طور پر بنوائی ہے اور افغانستان میں بہت سے لوگ ایسی گاڑیاں استعمال کرتے ہیں۔ راشد کے مطابق یہ افغانستان میں عام بات ہے۔

یہ انٹرویو راشد خان کی عالمی کرکٹ میں کامیابیوں اور افغانستان کی جنگ زدہ صورتحال کے درمیان تضاد کو اجاگر کرتا ہے۔ راشد خان جو ننگرہار صوبے میں پیدا ہوئے اور افغانستان کے پہلے عالمی سٹار کرکٹر ہیں۔ وہ ٹی 20 کی دنیا کے بہترین بولرز میں سے ایک ہیں۔

راشد خان آئی پی ایل، بگ بش لیگ، دی ہنڈریڈ اور دیگر لیگز میں کھیل چکے ہیں۔وہ افغانستان کے سب سے کم عمر کپتان بھی رہ چکے ہیں تاہم وہ زیادہ تر وقت دبئی میں گزارتے ہیں جو ان کا دوسرا گھر ہے کیونکہ وہاں بڑی تعداد میں افغان آباد ہیں اور قریب بھی ہے۔

پیٹرسن نے راشد کی باتوں پر حیرت کا اظہار کیا اور صورتحال کو دلچسپ قرار دیا۔ یہ انکشاف افغانستان میں جاری سیکورٹی چیلنجز کی یاد دہانی ہے جہاں کھلاڑیوں سمیت عام لوگوں کو بھی احتیاط برتنی پڑتی ہے۔

Related Posts