طالبان حکومت کے صوبائی محکمہ اطلاعات و ثقافت صوبہ بلخ میں موجود مولانا جلال الدین رومی کے والد کی خانقاہ کو بحال کرنے کا اعلان کیا ہے۔
صوبہ بلخ کے محکمہ اطلاعات و ثقافت کے سربراہ مولوی ذبیح اللہ نورانی نے صوبہ بلخ میں بہت سے تاریخی مقامات کی موجودی کو افغانستان کی قدیم ثقافت اور تہذیب کی نشانیوں کے طور پر ذکر کیا اور کہا کہ مولانا جلال الدین محمد بلخی کے والد شیخ بہاء الدین ولد کی خانقاہ 30 ایکڑ اراضی پر دوبارہ تعمیر کی جارہی ہے۔
ان کے مطابق مذکورہ خانقاہ کے ساتھ موجود متعدد مکانات کی اراضی واگزار کر لی گئی ہے۔ علاقے کے مکینوں کے لیے نئے مکانات تعمیر کرکے انہیں دے دیے گئے ہیں۔ مذکورہ خانقاہ کی تعمیر نو کے لیے 30 ایکڑ اراضی تیار کر لی گئی ہے۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ صوبہ بلخ کے باشندوں نے بھی محکمہ اطلاعات و ثقافت کے اس اقدام کو سراہا ہے اور کہا ہے کہ بہت سے سیاح اس علاقے کی طرف راغب ہوں گے۔
واضح رہے کہ مولانا جلال الدین رومی تیرہویں صدی عیسوی کے بہت بڑے صوفی بزرگ ہیں، ان کی صوفیانہ شاعری پر مبنی کتاب مثنوی کو لازوال شہرت حاصل ہے۔ مولانا رومی نے زندگی کا بڑا حصہ موجودہ ترکیہ کے صوبہ قونیہ میں گزارا، اس وقت اس خطے پر سلجوقوں کی حکومت قائم تھی اور ان کی سلطنت رومی کہلاتی تھی۔ اسی سے مولانا جلال الدین بھی مولانا روم مشہور ہوئے۔
مولانا جلال الدین رومی کو پاکستان کے قومی شاعر علامہ اقبال اپنا روحانی استاد مانتے تھے۔ علامہ اقبال کی فکر پر مولانا رومی کے افکار کی بھی چھاپ ہے۔ مولانا رومی کا مزار ترکیہ کے شہر قونیہ میں واقع ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مولانا رومی کے مزار کے احاطے میں علامہ اقبال کی ایک علامتی قبر بھی بنائی گئی ہے، جو مولانا رومی سے ان کی عقیدت و شیفتگی کا اعتراف ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








