افغانستان کی طالبان حکومت نے معروف پاکستان مخالف اور عمران خان کے حامی افغان سوشل ایکٹوسٹ جنرل مبین کو ایک بار پھر گرفتار کرلیا ہے۔
خود ساختہ جنرل مبین افغانستان میں طالبان حکومت کی آمد کے ساتھ ہی اپنے سوشل ورک اور سوشل میڈیا اور افغان میڈیا ٹاک شوز پر پاکستان کیخلاف اپنے تند و تیز بیانات کی وجہ سے مشہور ہیں، اس سے پہلے بھی کئی بار گرفتار اور رہا ہوچکے ہیں۔
اب ایک بار پھر گزشتہ دن جنرل مبین کو طالبان حکومت نے اپنی حراست میں لیا ہے، تاہم ان کی گرفتاری کس وجہ سے عمل میں آئی ہے، یہ تاحال سامنے نہیں آسکا ہے۔
جنرل مبین سوشل میڈیا پر جہاں پاکستان، پاک فوج اور پاکستانی سیاستدانوں کیخلاف اپنے تند و تیز بیانات کی وجہ سے مشہور ہیں وہاں وہ پاکستان میں معتوب سیاسی رہنما عمران خان کو ہمیشہ سپورٹ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
جنرل مبین کی جانب سے عمران خان کی حمایت میں ایک وی لاگ پاکستان کے حالیہ عام انتخابات کے فوری بعد بھی سامنے آیا تھا اور یہ شاید یوٹیوب پر ان کا گرفتاری سے پہلے آخری وی لاگ تھا۔
اس وی لاگ میں جنرل مبین کو خیبر پختونخوا میں عوامی نیشنل پارٹی کی پاکستان تحریک انصاف کے ہاتھوں شکست پر اے این پی کے انتخابی نشان لالٹین کو پی ٹی آئی کے بیٹ سے توڑتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔
جنرل مبین جمہوریت کے حوالے سے بھی پاکستان پر آئے دن تنقید کرتے نظر آتے ہیں اور اس حوالے سے وہ ہمیشہ پاکستان کے بڑے سیاسی مذہبی رہنما مولانا فضل الرحمن اور ان کی جماعت کیخلاف بھی آئے دن بیانات دیتے دکھائی دیتے ہیں۔
وہ مولانا فضل الرحمن کو نا مناسب لقب سے پکارتے ہیں، جس کی وجہ سے جے یو آئی کے کارکنوں کی جانب سے انہیں پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا ہے۔
جنرل مبین اس سے پہلے بھی کئی بار طالبان انتظامیہ کے ہاتھوں گرفتاری اور رہائی کا تجربہ کر چکے ہیں، اس بار انہیں پھر گرفتار کیا گیا ہے، مگر گرفتاری کی وجہ سامنے نہیں آسکی ہے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ طالبان حکومت پڑوسی پاکستان اور اس کی نئی حکومت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانا چاہتی ہے، جبکہ جنرل مبین اپنے سوشل میڈیا انفلوئنس کے باعث اس کوشش پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔
قیاس کیا جاتا ہے کہ شاید طالبان حکومت کی پاکستان کے ساتھ تعلقات بحالی کی ان کوششوں کے تناظر میں انہیں گرفتار کیا گیا ہے تاکہ کچھ عرصہ وہ قید میں رہیں تو تلخی سے بچا جاسکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








