اسلام آباد: افغانستان کی موجودہ تبدیل ہوتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر وزیراعظم عمران خان نے اعلیٰ سطح کی مشاورت کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس اہم معاملے پر قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔
وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے پیر مورخہ 16 اگست کو بلائے گئے اجلاس میں خطے خصوصاً افغانستان کی صورتحال پر غور کیا جائے گا۔ اجلاس میں سول اور عسکری قیادت شرکت کرے گی۔
دوسری جانب خطے کی تیزی سے بدلتی صورتحال کے پیش نظر افغانستان کی سیاسی قیادت پاکستان پہنچ گئی ہے۔ افغان اسپیکر میر رحمان رحمانی بھی وفد میں شامل ہیں۔ خصوصی نمائندہ افغانستان محمد صادق نے مہمانوں کا استقبال کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان وفد میں محمد یونس قانونی، استاد محمد کریم، احمد ضیاء مسعود، احمد ولی مسعود، عبداللطیف پیدرام اور خالد نور بھی شامل ہیں۔ افغان سیاسی رہنما افغانستان میں طالبان کے کنٹرول کے بعد کی صورتحال پر ملاقاتیں کریں گے۔
دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے واضح کیا ہے کہ افغانستان کے مسئلے پر دنیا اور پاکستان ایک پیج پر ہیں کہ مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے، افغانستان کی قیادت کی آزمائش کے لمحات ہیں۔
عاشورہ کے بعد میں وزیر اعظم کی اجازت سے افغانستان کے تمام ہمسایہ ممالک سے رابطہ کروں گا،ہمیں افغانستان کی بہتری مقصود ہے، ہمارا کوئی ایجنڈا نہیں، ہمارا ایجنڈا امن و استحکام اور افغانستان کی یکجہتی و خوشحالی ہے، موجودہ صورتحال میں پاکستان کا کردار مثبت رہے گا۔
ہمارا افغانستان میں کئی فیورٹ نہیں،افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ افغانوں نے کرنا ہے،بھارت الجھانے کی کوشش نہ کرے،عناصر محرم الحرام میں امن خراب کرنے کے کوشش کرسکتے ہیں، ضلعی انتظامیہ و پولیس مکمل چوکس ہوکر سیکورٹی پلان پر عملدرآمد کرائے۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان بارہا یہ کہتا آیا ہے کہ افغانستان کے مسئلے کا کوئی عسکری حل نہیں ہے اور پاکستان کے اس موقف کو دنیا نے تسلیم کیا اور خصوصاً یہ وزیر اعظم عمران خان کا سالوں پرانا موقف ہے۔
انہوں نے کہاکہ دنیا اور پاکستان ایک پیج پر ہیں اور وہ ایک پیج یہ ہے کہ افغانستان کا مسئلہ گفت وشنید اور مذاکرات سے حل کیا جائے اور پرامن طریقے سے اقتدار کی منتقلی کا طریقہ کار سامنے آ جائے جو جامع ہونے کے سات ساتھ وسیع تر بھی ہو تاکہ افغانستان کے تمام گروپس کو اس میں نمائندگی مل سکے اور وہ پرامن طریقے سے افغنستان کے مستقبل کا حل تلاش کر سکے۔
انہوں نے کہاکہ اب یہ افغانستان کی قیادت کی آزمائش کے لمحات ہیں، افغانستان کے عوام امن چاہتے ہیں، وہ استحکام چاہتے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ وہ اپنے گھروں میں محفوظ رہیں اور انہیں نقل مکانہ نہ کرنی پڑے اور روزمرہ کا کاروبار بھی چلتا رہے۔
مزید پڑھیں: افغان صدر اشرف غنی نے افغانستان چھوڑ دیا،انٹر نیشنل میڈیا
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








