امریکی انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر تلسی گبارڈ نے گزشتہ روز امریکی میڈیا کو دئیے گئے انٹرویو میں کہا کہ آپریشن الائیز ویلکم کے تحت 18ہزار افغان شہری امریکا میں داخل ہوئے اور جو بائیڈن انتظامیہ کے تحت امریکا آنے والے ان شہریوں کی صحیح جانچ نہیں ہوئی۔ اب اسی آپریشن کے تحت آنے والے ہر افغان شہری کا قریب سے جائزہ لیا جارہا ہے۔ تمام ادارے متحرک ہیں اور 18 ہزار میں سے 2ہزارشہریوں کے دہشت گرد تنظیموں سے براہِ راست یا ممکنہ روابط ہیں۔
انہوں نے کہا کہ داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں مسلسل امریکا پر حملوں کی منصوبہ بندی میں لگی ہوئی ہیں اور امریکا میں ان تنظیموں کو ایسے افراد کی تلاش ہے جو یہ کام کرسکیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ اس خطرے کے حوالے سے کافی سنجیدہ ہیں۔ گزشتہ چند سالوں سے غیرقانونی طور پر امریکا کا رخ کرنے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔
اور وہی ہوا جس کا خدشہ ڈائریکٹر انٹیلی جنس کو تھا، اس بیان کے ایک دن بعد ہی داعش کے دہشت گردوں نے براؤن یونیورسٹی پر فائرنگ کرکے 2 طلبہ کو ہلاک اور 9کو زخمی کردیا اور فرار ہوگئے ہیں۔
چند ماہ قبل بھی ایک امریکی انٹیلی جنس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ افغانستان کے دہشت گرد گروپ اب دنیا میں مختلف مقامات پر آپریٹ کرنے کے قابل ہو گئے ہیں جو حقیقت بن کر سامنے آنا شروع ہوئی۔
ایسے بدلتے ہوئے حالات میں مستقبل قریب ایک بھیانک تصویر پیش کررہا ہے جس میں افغانستان پر کثیر جہتی ایکشن کا پیش خیمہ سمجھا جاسکتا ہے اور ایسی صورت میں پہلے کی طرح پاکستان پر مہاجرین کا دباؤ اور اس کے اثرات و مضمرات مرتب ہونا ایک قدرتی امر ہوگا۔
اس سے قبل دسمبر کے آغاز میں سامنے آنے والی رپورٹ کے مطابق امریکا میں ایک اور افغان شہری کو داعش خراسان کو مادّی مدد فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا، جس کی شناخت جان شاہ کے نام سے ہوئی جو دہشت گرد تنظیم کو مدد فراہم کرتا رہا۔
ایک رپورٹ کے مطابق امریکا میں نیشنل گارڈ کے دو اہلکاروں پر افغان نژاد ملزم کے حملے کے بعد امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ نے کم و بیش 24افغان شہریوں کو گرفتار کرلیا تھا اور گرفتاریوں کی لہر امریکی ریاست کیلیفورنیا کے علاقوں میں دیکھی گئی جہاں بڑی تعداد میں افغان شہری آباد ہیں۔
گزشتہ ماہ 26نومبر کو ایک افسوسناک واقعے میں ایک افغان شہری رحمان اللہ نے واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے قریب نیشنل گارڈ زپر حملہ کیا تھا جس میں ایک خاتون نیشنل گارڈ ہلاک جبکہ ایک مرد اہلکار شدید زخمی ہوا۔ نیشنل گارڈ حملے کے ملزم 29 سالہ رحمان اللہ کو رواں سال سیاسی پناہ دی گئی تھی۔حملے کے بعد امریکی حکومت نے افغان شہریوں سے متعلق امیگریشن کے کئی اقدامات عارضی طور پر معطل کر دیے ہیں، جن میں ویزا پراسیسنگ، پناہ کی درخواستیں اور اُن افغانوں کے کیس بھی شامل ہیں جنہوں نے امریکی فورسز کے لیے خدمات انجام دی تھیں۔
عالمی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکا میں دہشت گردی کے جواب میں ٹرمپ انتظامیہ نے جو جوابی کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں جن میں گرفتاریاں ایک اہم عمل ہیں، ان کے نتیجے میں افغان نژاد شہریوں میں شدید خو ف و ہراس پھیل رہا ہے اور بہت سے افراد ممکنہ گرفتاریوں سے بچنے کیلئے گھروں سے نکلنے سے گریز بھی کر رہے ہیں۔ ایسے ہی ایک واقعے کا ذکر یہاں ضروری ہے کہ جب ایک افغان شخص کو ہتھکڑی لگائی جارہی تھی تو باہر آنے پر اس کی اہلیہ زاروقطار روئی، جبکہ اس کی کمسن بیٹی ماں کو دلاسہ دیتی نظر آئی۔
دراصل دہشت گردی افغانستان، پاکستان یا امریکا کا نہیں بلکہ تمام عالمِ انسانیت کا مسئلہ ہے جس کی بیخ کنی کیلئے اقوامِ عالم کو متحد ہو کر کارروائیاں کرنا ہوں گی اور دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے اپنے مفادات کی قربانی دینا بھی سیکھنا ہوگا کیونکہ مفادات کے نام پر ہی دنیا کا ایک ملک یا اس کے افراد دوسرے ملک کی سرزمین پر جب خود چڑھائی نہیں کرسکتے تو کسی اور ملک کے کاندھے پر بندوق رکھ کر وہاں دہشت گردی کو ہوا دیتا ہے تاکہ یہ دہشت گردی کا عفریت آگے بڑھ کر اس کے تمام دشمنوں کو اپنی لپیٹ میں لےلے۔
مثال کے طور پر یہی وہ افغانستان ہے جہاں 20 سال تک امریکا نے جنگ لڑی جس کا مقصد ورلڈ ٹریڈ سینٹرپر ہونے والے طیارہ حملوں کے بعد دہشت گردی کا قلع قمع کرنا تھا اور آج وہی افغان دہشت گرد امریکاکی سرزمین پر جا کر امریکی عوام کے محافظوں پرگولیاں برساتے پائے گئے جس کا خمیازہ ایسے شہریوں کو بھی بھگتنا پڑتا ہے جن کا خودکش بمباری یا دہشت گردی سے دور دور کا بھی تعلق نہیں ہوتا۔
آخرکار یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ دہشت گردی کسی ایک خطے، ایک ریاست یا ایک قوم کا المیہ نہیں بلکہ انسانی شعور کے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔ یہ وہ آگ ہے جو مفادات کے ایندھن سے بھڑکائی جاتی ہے، سرحدوں کی لکیر نہیں مانتی، اور بالآخر انہیں ہی جلا ڈالتی ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اس شعلے کو دوسروں کی طرف موڑ کر خود محفوظ رہیں گے۔ جب ریاستیں وقتی فائدے، اسٹریٹجک برتری یا خاموش سودے بازی کی خاطر تشدد کے بیج بوتی ہیں تو وہ یہ بھول جاتی ہیں کہ نفرت کی فصل کسی ایک زمین تک محدود نہیں رہتی۔ دہشت گردی کو شکست دینے کیلئے ہتھیاروں سے زیادہ ضمیر کی طاقت درکار ہے، اتحاد کی وہ جرات جو دوغلے معیارات کو مسترد کرے، اور وہ اخلاقی دیانت جو یہ مان لے کہ ظلم اگر آج خاموشی سے برداشت کیا جائے تو کل وہی ظلم دروازہ توڑ کر داخل ہوگا۔ انسانیت کے خلاف اس جرم کا واحد مؤثر جواب یہی ہے کہ دنیا مفاد پرستی کے سہارے نہیں بلکہ مشترکہ انسانی اقدار کی بنیاد پر کھڑی ہو—کیونکہ دہشت گردی کو وقتی طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے، مگر کبھی قابو میں نہیں رکھا جا سکتا۔ اسے جن مقاصد کیلئے پالاجاتا ہے، وہی مقاصد سب سے پہلے اس کی لپیٹ میں آتے ہیں۔ جو آگ دشمن کو جلانے کیلئے بھڑکائی جاتی ہے، وہ بالآخر اپنے ہی گھروں کو راکھ کر دیتی ہے۔ اگر عالمِ انسانیت واقعی امن چاہتی ہے تو اسے دوغلے معیار، وقتی مفادات اور پراکسی تشدد سے مکمل لاتعلقی اختیار کرنا ہوگی۔ دہشت گردی کا خاتمہ اسی دن ممکن ہوگا جب دنیا یہ فیصلہ کرلے کہ کسی بھی مقصد کیلئےانسانیت کا خون نہ بہنے دیا جائے اور اس فیصلے پر سختی سے کاربند رہاجائے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








