صحت کا بحران: تھر میں ایک ماہ میں 36 بچوں کی اموات ریکارڈ

تازہ ترین

تازہ ترین

Thar records 36 child deaths in one month

کراچی:ضلع تھرپارکر میں 2022 کے پہلے مہینے میں مختلف بیماریوں کی وجہ سے 36 سے زائد بچوں کی اموات نے صحت کے نظام پر سوالات اٹھادیئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بیماریوں کا شکار ہونے والے بچوں کی اکثریت نوزائیدہ یا شیرخوار تھی۔ جن میں مٹھی کے 8، اسلام کوٹ سے 7، ڈیپلو سے 6، چھاچھرو سے 3، ننگرپارکر کے کے 7اور دیگر ملحقہ علاقوں سے 5بچے شامل ہیں۔

ان بچوں کی موت کی وجوہات زچگی کی پیچیدگیوں اور خون کی کمی، نمونیا، خسرہ، اور سانس کی بیماریوں جیسے مسائل سے منسلک بتائی جاتی ہیں۔

2021 میں تھر اور اس کے ملحقہ اضلاع میں 600 سے زائد بچے مختلف پیچیدگیوں اور بیماریوں کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ اس سے ایک سال پہلے یہ تعداد 500 تھی۔

حیدرآباد کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ ڈاکٹر ارشاد میمن نے 36 بچوں کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ تھرپارکر ضلع اور اس کے ملحقہ علاقوں میں پیدا ہونے والے بچے کم عمری کی شادیوں سے پیدا ہونے والی آئرن کی کمی سمیت غذائیت کی کمی اور دیگر پیچیدگیوں کا شکار ہیں۔

مزید پڑھیں:کراچی میں کورونا بے قابو، ڈیفنس، کلفٹن، کالا پل اور گارڈن میں بھی لاک ڈاؤن لگ گیا

ایک خاندان میں دس سے زیادہ بچے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے خواتین میں غذائیت کی کمی اور موروثی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں اور ان کا وزن بہت کم وزن والے بچے ہوتے ہیں۔

یہ بالائی سندھ میں تعلیم اور آگاہی کی کمی کی وجہ سے ہے کہ ماؤں اور بچوں میں مختلف طبی مسائل پیدا ہوتے ہیں جب کہ شدید موسمی حالات بھی ان کی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔

Related Posts