کراچی: پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں جمعرات کو شدید مندی چھائی رہی اور سینٹ الیکشن کے بعد ملک میں پیدا ہونے والی سیاسی غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کاروں نے حصص فروخت کو ترجیح دی۔
جس کے نتیجے میں کے ایس ای100انڈیکس 882.24پوائنٹس کی کمی سے 46ہزار کی نفسیاتی حد سے گرتے ہوئے45278.54پوائنٹس کی سطح پر آگیا جب کہ86.89فیصد کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔
جس سے سرمایہ کاروں کوایک کھرب 43ارب21کروڑ68لاکھ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔ اور حصص کی لین دین کے لحاظ سے کاروباری حجم بھی بدھ کی نسبت 9.36فیصدکم رہا۔
گزشتہ روز کاروبار کے آغاز سے ہی سرمایہ کار سینٹ الیکشن کے نتائج کے باعث سیاسی رسہ کشی بڑھنے کے باعث محتاط نظر آئے اور انہوں نے نئی سرمایہ کاری کے بجائے مارکیٹ سے سرمایہ نکالنے کو ترجیح دی۔
جس کے باعث انڈیکس46ہزار کی نفسیاتی حد سے گرتے ہوئے 45088پوائنٹس کی نچلی سطح پر آگیا بعد ازاں ریکوری آئی اور 45100اور45200کی نفسیاتی حدیں بحال ہوگئیں لیکن مندی کا رجحان غالب رہا۔مارکیٹ کے اختتام پر کے ایس ای100انڈیکس882.24پوائنٹس کی کمی سے45278.54پوائنٹس پر بند ہوا۔
اسی طرح کے ایس ای30انڈیکس400.74پوائنٹس کی کمی سے 18898.29پوائنٹس اور کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس 531.18پوائنٹس کی کمی سے 31133.90پوائنٹس کی سطح پرآ گیا۔
گزشتہ روزمجموعی طور پر412کمپنیوں کا کاروبار ہوا جس میں سے46کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ358میں کمی اور8کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
بیشتر کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں گرنے کے سبب مارکیٹ کی سرمایہ کاری مالیت82کھرب65ارب55کروڑ33لاکھ روپے سے گھٹ کر81کھرب22ارب33کروڑ65لاکھ روپے ہوگئی۔