دُنیا بھر میں ماحولیاتی تحفظ کا شعور اجاگر کرنے کے لیے زمین کا 50 واں عالمی دن آج منایا جارہا ہے جبکہ سب سے پہلا عالمی یومِ ارض 1970ء میں منایا گیا تھا۔
ہر سال 22 اپریل کو عالمی یومِ ارض کے موقعے پر عوام الناس میں ماحولیاتی تحفظ کے شعور کی بیداری کیلئے تقاریب کا انعقاد کیا جاتا ہے۔
ارتھ ڈے نیٹ ورک کے زیرِ اہتمام پاکستان سمیت 192 سے زائد ممالک عالمی یومِ ارض مناتے ہیں جبکہ سب سے پہلے زمین کا عالمی دن منانے کا تصور 1969ء میں پیش کیا گیا۔
امن کے داعی جان مک کونل کو عالمی یومِ ارض منانے کے تصور کا خالق قرار دیا جاتا ہے جس نے سان فرانسسکو میں منعقد ہونے والی یونیسکو کانفرنس میں یہ تصور پیش کیا۔
آگے چل کر 21 مارچ 1970ء کو جان مک کونل نے ہی یومِ ارض کیلئے تاریخ تجویز کی جس پر اقوامِ متحدہ کے اُس وقت کے جنرل سیکریٹری اوتھاں نے رضامندی ظاہر کردی۔
بعد ازاں ارتھ ڈے نیٹ ورک کی بنیاد رکھ دی گئی جس نے ابتدائی طور پر محدود علاقے میں منائے جانے والے یومِ ارض کا دائرہ دنیا کے متعدد ممالک تک پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا۔
سن 1990ء تک ارتھ ڈے نیٹ ورک کی تنظیم کے تحت 141 ممالک میں ارتھ ڈے منایا گیا جس کا دائرۂ کار پھیلتا چلا گیا۔
عالمی یومِ ارض منانے کا مقصد اقوامِ عالم میں ماحولیاتی تحفظ، موسمیاتی تبدیلیوں، گرین ہاؤس افیکٹ اور دیگر زمینی تبدیلیوں کے حوالے سے شعور بیدار کرنا ہے۔
ہماری زمین نظامِ شمسی کا ایک اہم سیارہ ہونے کے ساتھ ساتھ کائنات کا منفرد ترین سیارہ بھی ہے جہاں ایسی ایسی نعمتیں دستیاب ہیں جو دنیا کے کسی اور سیارے پر دستیاب نہیں۔
اب تک کی گئی سائنسی تحقیق کے مطابق ہماری زمین ہی وہ واحد سیارہ ہے جہاں زندگی موجود ہے جبکہ دیگر سیاروں پر زندگی کے چیدہ چیدہ آثار تو ملتے ہیں، لیکن زندگی دستیاب نہیں۔
اس لیے زمین کو بچانے کی جنگ عالمِ انسانیت اور کائنات کے ایسے واحد سیارے کو بچانے کی جنگ ہے جہاں زندگی اور حرکت موجود ہے۔