مفتی تقی عثمانی پر مبینہ حملہ،ملزم کے بارے میں اہم حقائق سے پردہ ہٹ گیا

تازہ ترین

تازہ ترین

مفتی تقی عثمانی پر مبینہ حملہ،ملزم کے بارے میں اہم حقائق سے پردہ ہٹ گیا
مفتی تقی عثمانی پر مبینہ حملہ،ملزم کے بارے میں اہم حقائق سے پردہ ہٹ گیا

کراچی: مفتی تقی عثمانی پر مبینہ حملہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار مشتبہ شخض کے گھر پہنچ گئے، تفتیشی ذرائع کے مطابق ملزم سے بر آمد ہونے والے چاقو کا ماہرین سے معائنہ کرانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق مشتبہ شخص کی دو بیویاں اور ایک بیٹی ہے، جبکہ دوبیویاں مشتبہ شخض سے ناراض ہیں، تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم گلشن اقبال کے ذہنی امراض کے کلینک میں زیر علاج ہے، ملزم 2سال سے مختلف نوعیت کے ذہنی امراض کا شکار ہے۔

تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم دو سال سے ذہنی امراض کا شکار ہے، مشتبہ شخص اور اس کے خاندان کے بارے میں معلومات حاصل کی جارہی ہیں۔

واضح رہے کہ ممتاز عالم دین مفتی تقی عثمانی چاقو سے حملے میں محفوظ رہے۔جمعرات کی صبح مفتی تقی عثمانی پرقاتلانہ حملے کی کوشش ناکام بنادی گئی۔ مفتی تقی عثمانی حملے میں محفوظ رہے۔

قاتلانہ حملے کی کوشش دارالعلوم کورنگی میں نماز فجر کے بعد کی گئی۔ حملہ آور نے تقی عثمانی سے بات کرنے کی کوشش کی اور چاقو نکال لیا۔ ساتھ موجود گارڈز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کو پکڑ لیا۔

مزید پڑھیں: مفتی تقی عثمانی نے قاتلانہ حملے کی تصدیق کردی، ملزم سے تفتیش جاری، اہم انکشافات

حملہ آور کو پولیس کے حوالے کردیا گیاہے۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔واضح رہے کہ دو سال قبل بھی کراچی کی نیپا چورنگی پر دارالعلوم کراچی کی 2 گاڑیوں پر موٹر سائیکل سوار دہشت گردوں نے فائرنگ کی تھی۔ اس واقعے میں بھی مفتی تقی عثمانی بال بال بچ گئے تھے۔

گاڑی میں ان کے ہمراہ اہلیہ اور 2 پوتے بھی تھے۔ فائرنگ کے واقعے میں ان کے2 سیکیورٹی گارڈ شہید ہوگئے تھے۔جبکہ بیت المکرم مسجد کے خطیب مولانا عامر شہاب اور مفتی تقی عثمانی کا ڈرائیور زخمی ہوا تھا۔

Related Posts