اسلام آباد: وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اپنے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ ہندوستان، معقولیت کی بجائے جنونیت کی سوچ پر گامزن ہے جو رویہ بھارت نے اپنے ملک میں اپنی اقلیتوں کے ساتھ روا رکھا ہے،وہ سب کے سامنے ہے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کچھ دنوں سے چین اور بھارت کے مابین کشمکش بڑھتی دکھائی دے رہی تھی، چین نے کوشش کی کہ معاملہ افہام و تفہیم سے، گفتگو کے ذریعے حل ہو، مگر بھارت نے چین کی بات کو درخورِ اعتناء نہ سمجھتے ہوئے متنازعہ علاقے میں تعمیرات کا سلسلہ جاری رکھا۔
بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے 9 مئی کو ایک چپقلش ہوئی، مگر اب یہ خونی تصادم میں تبدیل ہو چکی ہے، آج جو اطلاعات سامنے آ رہی ہیں ان کے مطابق 20 سے زیادہ بھارتی فوجیوں اور افسران کی اموات ہو چکی ہیں یہ ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ کئی دہائیوں کے بعد خونی تصادم کی یہ صورت دیکھنے میں آ رہی ہے، یہ سب بھارت سرکار کی ہندتوا سوچ کا کیا دھرا ہے، بھارت جب ہندتوا سوچ اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرے گا تو حالات خراب ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ 5 اگست کو بھارت نے جو یکطرفہ اقدام اٹھائے انہیں پاکستان بھی مسترد کر چکا ہے اور چین بھی اس پر معترض ہے، پاکستان امن پسند ملک ہے، ہم خطے میں امن و استحکام کے خواہاں ہیں، افغانستان میں قیام امن کیلئے پاکستان کی کاوشیں ساری دنیا کے سامنے ہیں۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر ہندوستان سمجھتا ہے کہ پاکستان، اس کے جارحانہ رویے سے مرعوب ہو گا تو یہ اس کی غلط فہمی ہے، ہم نے بھارت کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے معاملات کے حل کی پیشکش کی جسے انہوں نے پس پشت ڈال دیا۔
آپ نے دیکھا کہ فروری میں جب ہندوستان نے جارحیت کا مظاہرہ کیا تو پاکستان نے بھرپور جواب دیا، چین کا موقف اصولی ہے،تبت اور لداخ کا 3500 کلومیٹر کا علاقہ بھارت اور چین کا متنازعہ سرحدی علاقہ ہے اور اگر بھارت یہ سمجھتا ہے کہ وہ اسے ہضم کر لے گا تو شاید یہ چین کے لیے قابلِ قبول نہ ہو۔