ڈی سی کہتا ہے مردہ بچی کو گلی میں پھینک دو، مجھے تنگ نہ کرو،ٹینٹ سٹی میں سیلاب متاثرہ خاتون کی دہائیاں

تازہ ترین

تازہ ترین

سندھ حکومت کے قائم کردہ ٹینٹ سٹی میں سیلاب متاثرین بے یارو مددگار، ڈی سی نے بھی نظر انداز کردیا
سندھ حکومت کے قائم کردہ ٹینٹ سٹی میں سیلاب متاثرین بے یارو مددگار، ڈی سی نے بھی نظر انداز کردیا

سندھ حکومت کی جانب سے کراچی میں قائم کردہ ٹینٹ سٹی میں سیلاب متاثرہ خاتون نے اپنے اُوپر گزری غم کی داستان سناتے ہوئے کہا کہ یہاں پر ایک بچی ڈینگی مچھر کے کاٹنے سے انتقال کرگئی۔

جب ہم بچی کے کفن دفن کیلئے ڈپٹی کمشنر کے پاس گئے تو انہوں نے بچی کے کفن دفن کا انتظام کرنے کے بجائے ہمیں یہ مشہورہ دیا کہ بچی کی لاش کو گلی میں پھینک دیں۔

کراچی کے مضافات میں نیشنل ہائی وے سٹی ٹول پلازا کے قریب سندھ حکومت کی جانب سے مختلف اضلاع کے سیلاب متاثرین کیلئے قائم کردہ ٹینٹ سٹی (خیمہ بستی) میں تاحال کسی قسم کی سہولت اور امداد کا انتظام نہیں کیا جاسکا ہے، جس کے باعث یہاں پناہ گزیں ہزاروں متاثرین بہت مشکل زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔

ایم ایم نیوز کی ٹیم نے گزشتہ دنوں سندھ حکومت کی جانب سے گزشتہ ماہ قائم کردہ اس ٹینٹ سٹی کا دورہ کیا۔

سیلاب متاثرین کی بڑی تعداد نے ایم ایم نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت بڑے بڑے دعوؤں کے ساتھ ہمیں یہاں لائی تھی، ہمیں بتایا گیا تھا کہ یہاں ہر سہولت موجود ہے، مگر یہاں آکر پتا چلا کہ سوائے خیموں کے یہاں کوئی بھی سہولت موجود نہیں ہے۔

سیلاب متاثرہ شخص نے نم آنکھوں کے ساتھ ایم ایم نیوز کو بتایا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے متاثرین کیلئے پینے اور استعمال کیلئے پانی تک فراہم نہیں کیا گیا ہے، آئے دن خواتین، بچے اور بوڑھے مختلف بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں مگر ان کے علاج معالجے کیلئے کسی قسم کی دوا یا ڈاکٹر میسر نہیں ہے۔

ٹینٹ سٹی میں موجود عمر رسیدہ شخص نے کہا کہ سہولتوں اور بنیادی ضرورت کی اشیاء کے فقدان کے باعث متاثرین انتہائی مشکل صورتحال سے دوچار ہیں۔ جب سے وہ یہاں آئے ہیں کسی نے بھی پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا۔ بچے سارا سارا دن بھوکے روتے اور بلکتے رہتے ہیں۔

ایم ایم نیوز سے بات کرتے ہوئے ایک خاتون نے کہا کہ صورتحال بہت زیادہ خراب ہے، خیمہ بستی میں آئے دن سانپ اور بچھو نکل آتے ہیں، جس سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل رہا ہے، موذی حشرات سے تحفظ اور کاٹنے کی صورت میں علاج کی کوئی سہولت میسر نہیں ہے، جس کی وجہ سے متاثرین عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

ٹینٹ سٹی میں موجود سیلاب متاثرین کی بڑی تعداد نے یہی شکایت کی کہ سندھ حکومت نے خیمے لگاکر ہمیں یہاں مکمل طور پر بے یار و مددگار اور حالات کے رحم و کرم پر چھوڑدیا ہے۔

ایم ایم نیوز کو اپنی حالتِ زار کے بارے میں بتاتے ہوئے کچھ سیلاب متاثرین کی آنکھیں نم آلود ہوگئیں اور کچھ نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس بدترین حالت میں قید کرنے سے بہتر ہے سندھ حکومت بم مار کر ہم سب کو ایک ہی بار ختم کردے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ سندھ حکومت نے کراچی کے مضافات میں خیمہ بستی (ٹینٹ سٹی) قائم کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ 1300 متاثرہ خاندانوں کیلئے قائم اس خیمہ بستی میں متاثرین کو تمام سہولتیں اور ضروریات سندھ حکومت فراہم کرے گی۔

تاہم، کئی دن گزرنے کے باوجود یہاں حکومت کی جانب سے کوئی سہولت ملتی نظر نہیں آتی، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سندھ حکومت ٹینٹ سٹی قائم کرکے ڈونرز سے امداد سمیٹنے میں مصروفیت کے باعث اس خیمہ بستی اور یہاں پر پناہ گزین ہزاروں سیلاب متاثرین کو مکمل طور پر بھول گئی ہے۔  

 

Related Posts