دنیا بھر کی طرح پاکستان میں ای کامرس کا بزنس موجودہ تنظیموں ، کاروباری اداروں اور صارفین کے اشتراک سے حیرت انگیز طور پر ابھر کے سامنے آیا ہے ۔
پاکستان ایک ایسا ملک جہاں مختلف کلچر اور روایات پروان چڑھ رہی ہیں۔ پاکستان ایک ترقی پذیر آئی ٹی پاور ہاؤس بھی ہے ، جو اس وقت الگ الگ ای مارکیٹ کا گھر ہے جو مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو اربوں مواقع فراہم کرتا ہے۔
اگرچہ ای کامرس میں پاکستان عالمی مارکیٹ کے برابر نہیں مگر یہ اس سے زیادہ پیچھے بھی نہیں ہے۔ ای کامرس کا بزنس پاکستان میں ترقی کی جانب گامزن ہے۔
پاکستان کی ای کامرس مارکیٹ بڑھ رہی ہے
قومی ای کامرس کونسل ( این ای سی سی ) کا چوتھا اجلاس کامرس ایڈوائزر عبدالرزاق داؤد کی زیر صدارت ہوا، جس میں اعدادوشمار کے تبادلے پر غوروفکر کیا گیا۔ اجلاس میں سرکاری اور نجی شعبوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
پاکستان کی “قومی ای-کامرس کونسل” کے حالیہ اجلاس میں پیش کیے گئے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ملک میں رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ای کامرس مارکیٹ کے حجم میں 35 فی صد سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 71 ارب روپے زیادہ رہا۔
پاکستان میں ای کامرس کے مواقع
لین دین ہاتھوں ہاتھ ہو یا آن لائن، اب کسٹمر چوائس کسی ایک جگہ یا ملک تک محدود نہیں رہی۔ اب صرف ایسی مصنوعات اور آلات اپنا وجود برقرار رکھ پائیں گے، جو صارف کے دل کو بھائیں۔ یہی وجہ ہے کہ آن لائن شاپنگ پورٹل تیزی سے ریٹیل مارکیٹ کا شیئرحاصل کرتا جارہا ہے۔ اب ریٹیل مارکیٹ کو بھی آرام پسند صارفین کو ہوم ڈیلیوری کی سہولت فراہم کرنی ہوگی۔ پاکستان میں آن لائن شاپنگ اپنی جگہ بنانے کی تگ و دو میں مصروف ہے۔ پیزا خریدنے کے لیے اب گھر سے نکلنا نہیں پڑتا، اسی طرح ٹیکسی یا بائیک بھی ایک کال پر آگئی ہے۔
ای کامرس کا بزنس عوام کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کو بھی فائدے دے گی ۔ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2022 تک پاکستان کی انفارمیشن ٹکنالوجی کی برآمد میں 25 فیصد اضافہ متوقع ہے۔
ای کامرس لوگوں کی معاشیات کو بہتر بنانے کے ساتھ مسابقتی انٹرپرائز کی تعمیر اور عالمی تجارت میں اپنا حصہ بڑھانے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ اگلے 30 سالوں میں 130 ملین افراد کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے معاملے میں ای کامرس کا بزنس اہم کردار ادا کرے گا۔
ای کامرس کا مستقبل
مندرجہ ذیل وجوہات کی بنا پر پاکستان دنیا کا اگلا ای کامرس لیڈر بن سکتا ہے۔
کاروباری ثقافت کے ساتھ نوجوانوں کو بااختیار بنانا: نوجوانوں کے لیے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے، پاکستان کے معروف تعلیمی ادارے ترقی پزیر کاروباری افراد کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں تاکہ وہ مستقبل میں بڑے بڑے کاروباری اداروں کے سی ای او بن سکیں۔ یہ ادارے کاروباری ذہانت کے ساتھ کچھ بہترین طلباء پیدا کرنے میں صف اول کی فہرست میں ہیں ۔
تیز انٹرنیٹ رسائی: ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 2018 تک 60 ملین لوگ انٹرنیٹ استعمال کررہے تھے۔ پاکستان کچھ عرصے میں دنیا کی سب سے بڑی ڈیجیٹل آبادی تیار کرنے میں مصروف ہے۔ پاکستان میں اس وقت انٹرنیٹ کے استعمال میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں انٹرنیٹ باآسانی دستیاب ہے اور اسمارٹ فونز بھی بہت سستے مل رہے ہیں اور پے منٹ کا بھی کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔
مائیکرو فنانسنگ سروسز کو معمول بنانا: حکومت نے ایسے الیکٹرانک ادائیگی کے گیٹ ویز متعارف کروانے کا وعدہ کیا جیسے پے پال اور علی پے۔ جس سے ای کامرس کے شعبوں کو مزید فروغ ملے گا۔
آن لائن خریداری کا بہتر تجربہ: پاکستانی خریداروں نے آن لائن شاپنگ پلیٹ فارم پر آنا شروع کردیا ہے جو ورسٹائل ذاتی نوعیت کی خصوصیات پیش کرتے ہیں ، جس میں اسٹور میں بہت اچھا تجربہ ہوتا ہے اور چیک آؤٹ کا ایک منظم طریقہ کار ہوتا ہے۔ اپنی زیادہ سے زیادہ فعالیت پر ایک بہتر نظر آنے والی ویب سائٹ کے ساتھ ، ای کامرس اسٹوروں نے پاکستان میں اپنے ٹریفک ، آن لائن مصروفیات اور تبادلوں کی شرحوں میں نمایاں بہتری لائی ہے۔