اسلام آباد: حکومتی اتحادی رہنماؤں کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے معاملے پر ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کیخلاف فیصلہ آنے پر سپریم کورٹ کی کارروائی کا بائیکاٹ اعلان کر دیاگیا ہے۔
پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد میں حکومتی اتحاد کے رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انصاف کی بالادستی کے لیے فل کورٹ کی تجویزدی تھی۔
اُنہوں نے کہا کہ آج ہمارے وکلا نے عدالت کوبنچ کا مشورہ دیا، بدقسمتی سے عدلیہ نے ہمارے مطالبے کوقبول کرنے کے بجائے مسترد کردیا۔ اگرفل کورٹ مسترد کیا جاتا ہے توہم بھی عدلیہ کے اس فیصلے کومسترد کرتے ہیں، ہم اس بنچ کے سامنے پیش نہیں ہونگے اورمقدمے کا بائیکاٹ کریں گے۔
دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر کہنا تھا کہ جب فیصلے آئین،قانون اور انصاف کے مطابق نا ہوں تو فُل کورٹ سے خطرہ رہتا ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ ایماندار ججز کے شامل ہونے سے فیصلے کی خامیاں منظر عام پر آ جاتی ہیں اور لوگ جان جاتے ہیں فیصلہ آئین و قانون نہیں، ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ مگر اب کچھ بھی کر لیں، لوگ تو جان گئے!
لیگی نائب صدر نے لکھا کہ فل کورٹ نہ بنانے کی ایک ہی وجہ ہے خوف! اپنے ہی کیے ہوئے فیصلوں کا تضاد سامنے آنے کا خوف۔
مریم نواز نے اپنے ایک اور ٹویٹ میں لکھا کہ ہمارے 20 ووٹ بھی آپ نے ہم سے چھین لیے اور ق لیگ کے 10 ووٹ بھی آپ نے پاکستان تحریک انصاف کو عطا کر دیے تو پرویز الہی صاحب کی اکثریت تو آپ کی دین ہے مائی لارڈ۔
مزید پڑھیں:سپریم کورٹ نے فل کورٹ بنانے کی درخواست کو مسترد کردیا
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








