دنیا بھر میں آج “موسیقی کا عالمی دن” منایا جا رہا ہے، ایک ایسا دن جو نہ صرف ساز و آواز کی خوبصورتی کو سراہتا ہے بلکہ انسانوں کے درمیان ثقافتی رشتوں کو بھی مضبوط بناتا ہے۔
ہر سال 21 جون کو منایا جانے والا یہ دن دنیا بھر کے موسیقاروں، فنکاروں، اور موسیقی کے شائقین کو ایک پلیٹ فارم پر لے آتا ہے، جہاں دھنوں کے ذریعے احساسات کی ترجمانی کی جاتی ہے۔
موسیقی کے عالمی دن کا آغاز 1982 میں فرانس سے ہوا، جہاں اسے “فیتے دے لا میوزیک” (Fête de la Musique) کے نام سے جانا گیا۔
اس دن کا مقصد موسیقی کو عوامی مقامات پر لے آنا اور ہر کسی کو اپنی آواز بلند کرنے کی آزادی دینا تھا، چاہے وہ کوئی پروفیشنل سنگر ہو یا شوقیہ گٹار بجانے والا نوجوان۔
پاکستان میں موسیقی نہ صرف ایک فن ہے بلکہ ثقافت کا آئینہ بھی ہے۔ کلاسیکل موسیقی سے لے کر لوک دھنوں، قوالی، صوفی کلام، اور جدید پاپ راک تک، ہر رنگ موسیقی میں موجود ہے۔
استاد نصرت فتح علی خان، مہدی حسن، نور جہاں، عابدہ پروین سے لے کر آج کے علی سیٹھی، شائے گِل اور اسفر حسین تک، پاکستانی موسیقی نے دنیا میں اپنی الگ پہچان بنائی ہے۔
اس دن کی مناسبت سے مختلف شہروں میں آن لائن محفل موسیقی، لائیو سیشنز، اور تعارفی پروگرامز منعقد کیے جا رہے ہیں۔
نوجوان موسیقاروں کا کہنا ہے کہ یہ دن اُن کے لیے حوصلہ افزائی کا ذریعہ بنتا ہے کہ وہ اپنے فن کو دنیا تک پہنچائیں اور موسیقی کو مثبت تبدیلی کے ہتھیار کے طور پر استعمال کریں۔
موسیقی کا عالمی دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ فنون لطیفہ صرف خوبصورتی یا شہرت کے لیے نہیں ہوتے وہ روح کی خوراک اور معاشرتی بیداری کے طاقتور ذرائع بھی ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ موسیقی کو صرف تفریح تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے سماجی ہم آہنگی اور ثقافتی شناخت کے فروغ کے لیے استعمال کیا جائے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








