بلوچ رہنما سردار اختر مینگل نے نظام پر شدید مایوسی کے عالم میں قومی اسمبلی سے استعفیٰ دینے کے بعد کہا ہے کہ بلوچستان کے مسئلے کے تالے کی چابی جی ایچ کیو میں رکھی ہوئی ہے، جسے کسی کو کھولنے کی اجازت نہیں ہے۔
استعفے کے بعد نجی چینل آج نیوز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے اختر مینگل نے کہا کہ ہم نے قومی سطح پر بلوچستان کا مسئلہ سمجھنے کی کوشش کی، باتیں سنتے تو سب ہیں لیکن وہ سمجھ نہیں پارہے یا ان کو منع کیا جارہا ہے۔
انہوں نے اپنے استعفے پر کہا کہ سخت فیصلہ تھا اور نقصانات کا بھی فیصلہ ہے یہ، میں نے نہ اپنی پارٹی سے مشورہ کیا اور نہ اپنے فیملی ممبرز سے، کل میں نے اسپیکر سے رات گئے رابطہ کیا، میں نے قائد حزب اختلاف عمر ایوب سے بھی بات کی، اسد قیصر سے بھی بات کی، میں ان کے بینچز پر جاکر ان سے ملا اور کہا کہ آپ کی لڑائی تو چلتی رہے گی، آپ لوگ برائے مہربانی مداخلت نہ کریں، انہوں نے کہا جی بالکل آج آپ بولیں ہم بیٹھے رہیں گے، لیکن میری تقریر شروع ہوئی تو دیکھا سب نکلتے گئے اور تقریر سے پہلے کورم ٹوٹ گیا اور یہ بائی ڈیزائن تھا۔ میرے ساتھ بیٹھے ایم ڈبلیو ایم کے ممبر نے کورم کی نشاندہی کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ایوان میں بلوچستان کا مسئلہ سننے کو کوئی تیار نہیں ہے۔ دیواروں کے کان ہوتے ہیں ان کے وہ بھی نہیں ہیں۔
اختر مینگل نے کہا کہ استعفے کے بعد ابھی تک حکومت میں سے کسی نے رابطہ نہیں کیا، رابطہ کریں گے بھی تو کیسے کریں گے، جو بات میں 1988 تک انہیں سمجھا نہ سکا تو اب میرے پاس کونسی جادو کی چھڑی آگئی ہے جو میں ان کے سروں پر گھما کر انہیں سمجھاؤں گا۔
انہوں نے کہا کہ ’اب اگر ان کو بات کرنی ہے تو میرے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے‘، مجھے انہوں نے جب ایپکس کمیٹی میں بلایا تو میں نے انہیں واضح کردیا تھا کہ میں کوئی اسٹیک پولڈر نہیں ہوں، میں بلوچستان کی ترجمانی نہیں کر رہا، جن لوگوں کو آپ منتخب کرکے لائے ہیں ان سے جاکر بات کریں۔
اختر مینگل نے کہا کہ ایپکس کمیٹی میں جو لوگ گئے تھے، ان سے آپ پوچھ کر دیکھیں کہ ان لوگوں نے کیا باتیں کی تھیں اور وہاں سے انہیں کیا جواب ملا۔
اختر مینگل نے کہا کہ ان لوگوں کو کہہ د یا گیا تھا کہ جن لوگوں نے بندوق اٹھائی ہے انہیں ہم نہیں چھوڑیں گے، ہم نے تو بندوق نہیں اٹھائی ہوئی، میں بندوق اٹھا کر اسمنبلی میں آیا تھا جو مجھے بات نہیں کرنے دی؟ 2018 سے آج تک میں نے اسمبلی میں کوئی غیر آئینی بات نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ میں انہیں یہ سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا کہ آپ لوگ ہوش کے ناخن لیں، انہوں نے ہوش کے ناخن نہیں لئے۔
سردار اختر مینگل نے کہا کہ اب انہیں بات کرنی ہے تو کرسی والے جو بڑی آرام دہ کرسیوں پر بیٹھے ہوئے ہیں ان سے بات کریں جو سنگلاخ پہاڑوں پر جا کر بیٹھے ہوئے ہیں، اب ہمارے بس میں کوئی نہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








